تکفیری وہابیوں کا نیا فتنہ: کل بدعت قرار دینے والے آج خلیفہ اول کے نام پر علم و جلوس نکال رہے ہیں
شیعیت نیوز: پاکستان میں وہابی ناصبی تکفیری گروہوں نے ایک نیا کھیل شروع کر دیا ہے۔ کل تک جو حضرت عباس علمدار علیہ السلام کے علم، پرچم حسینی اور امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کے ذکر کو حرام و بدعت قرار دے کر فتوے جاری کرتے تھے، آج وہی گروہ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے یوم وفات پر علم کے نام پر جلوس اور لاؤڈ سپیکر کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔
یہ منافقت اور شرپسندی کی انتہا ہے کہ امام مظلوم علیہ السلام کے غم میں عزاداری کو بدعت کہنے والے اب خود اسی طرز کی رسومات اپنا رہے ہیں۔
ان تکفیریوں کا اصل مقصد اہل بیت علیہ السلام کے ذکر کو کم کرنا اور شیعہ مظلومین کی 1400 سالہ عزاداری کو دبانا ہے۔ وہ کل حضرت عباس علیہ السلام کے علم کی وجہ سے ہزاروں عزاداروں کو شہید کرتے رہے اور ملک میں فساد پھیلاتے رہے، آج وہی اپنے محبوب شخصیات کی یاد میں جلوس نکال رہے ہیں۔
ہمیں ان سے کوئی تکلیف نہیں، بس یہ جواب دیں کہ کل غلط تھے یا آج غلط ہیں؟ اگر یہ عقیدت سچی ہے تو اگلے سال زنجیر زنی، قمه زنی اور آگ کا ماتم بھی شروع کر دیں، ہم زنجیریں مفت دیں گے، نوحے کے لیے علی وارث دستیاب ہے اور پنجاب سے ماہرین کی ٹیم بھی بھیجیں گے۔ اندرون سندھ سے بھانک پارٹی بھی مل جائے گی۔
بس یہ بتائیں کہ پہلے بدعت اور کفر سمجھتے تھے، اب شرپسندی اصل مقصد ہے یا سچ مچ خلفا کی یاد منا رہے ہو جبکہ ہم 1400 سال سے امام مظلوم کی یاد منا رہے ہیں جو اب درست سمجھنے لگے ہو؟







