ایرانی جزائر پر جھوٹے دعوے چھوڑ دو ورنہ ایرانی عوام کا صبر ٹووت جائے گا، امارات کو ایران کا آخری الٹی میٹم
شیعیت نیوز: رہبر معظم انقلاب کے مشیر برائے بین الاقوامی امور علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کو کھلے الفاظ میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے تینوں جزائر پر بار بار بے بے بنیاد دعوے دراصل استعماری طاقتوں کے ساتھ کھلا تعاون ہیں اور ایرانی عوام کا صبر لامحدود نہیں ہے۔
تہران – رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر برائے بین الاقوامی امور ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی ہے کہ ایران کے تینوں جزائر (ابوموسیٰ، تنب بزرگ اور تنب صغیر) پر بار بار کیے جانے والے بے بنیاد دعوے دراصل مغربی استعماری طاقتوں کے ساتھ تعاون کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں سی ٹی ڈی کارروائی: کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشت گرد حماد ظاہر جہنم واصل
ڈاکٹر ولایتی نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کچھ باتیں کھل کر کہہ دی جائیں۔
انہوں نے اماراتی حکمرانوں سے سوال کیا:
- امارات یمن میں کیا کر رہا تھا؟
- کیا آپ آبنائے باب المندب کی بھی ملکیت کے دعویدار ہیں؟
- سقطریٰ جزیرے پر قبضہ کیوں کیا اور اس کا امریکی بحری اڈوں سے کیا تعلق ہے؟
- کیا آپ آبنائے ہرمز اور ایرانی جزائر پر بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ یمن اور اب سوڈان میں ہزاروں معصوم مسلمانوں کا خون امارات کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں بہایا گیا ہے۔ امارات سوڈان میں کیا چاہتا ہے اور کیوں اس ملک کی تقسیم میں کردار ادا کر رہا ہے؟ کیا امارات سوڈان میں برطانیہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے؟ بہت سے تجزیہ کار اماراتی اقدامات کو ایک “خیالی بین الاقوامی سلطنت” بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ڈاکٹر ولایتی نے واضح کیا کہ ایرانی جزائر پر بار بار کیے جانے والے جھوٹے دعوے بھی انہی استعماری ایجنڈوں کا حصہ ہیں۔ ابوموسیٰ جزیرہ ہزاروں سال پہلے، خود امارات کی تشکیل سے بہت پہلے سے ایران کا اٹوٹ انگ رہا ہے۔
انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا: “وہ یہ اچھی طرح جان لیں کہ ایرانی عوام کا صبر لامحدود نہیں ہے۔”







