انبیاء کی سرزمین مظلوموں کے خون سے تر ہے، صہیونی مظالم جاری، عالمی ادارے خاموش ہیں، علامہ ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی نے یومِ رضا کار اور مٹی کے عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ انبیاء کی سرزمین کی مٹی کو بارود اور مظلوموں کے خون سے بھر دیا گیا، مسلط کردہ نام نہاد امن معاہدے کے باوجود ظالم صہیونی قابض ریاست سامراجیت کی پشت پناہی سے خونی و ہولناک مظالم جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی بھاری اکثریت سے منظور ہونے والی ایک اور قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مذہبی و سماجی اداروں سمیت رضا کاروں اور صحافیوں کو چن چن کر شہید کر دیا گیا، اقوام متحدہ فقط مذمتی قراردادوں تک ہی محدود رہ گئی، کرۂ ارض کے تحفظ کے لیے بیانات کے ساتھ عملی اقدامات لازم ہیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ عالمی ایام اپنی تخصیص کے ساتھ آرہے ہیں مگر ایسی صورتحال میں کہ انبیاء کی سرزمین کی مٹی بارود اور مظلوموں کے خون سے پر ہے، فلسطینیوں کے مذہبی و سماجی ادارے، رضا کاروں اور صحافیوں سمیت کم سن بچوں، خواتین اور بزرگوں کو ظالم و سفاک صہیونیت کا سامنا ہے جبکہ مسلط کردہ نام نہاد امن معاہدے کے باوجود آج بھی سامراجیت کی پشت پناہی سے صہیونی قابض و ظالم ریاست کے خونی و ہولناک مظالم جاری ہیں مگر اقوام متحدہ سمیت عالمی ادارے انگلی دبائے فقط مذمتی بیانات و قراردادوں تک محدود ہو گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں پر تشدد اور کم عمری مزدوری اسلامی تعلیمات کے خلاف سنگین جرم ہے، علامہ عارف واحدی
انہوں نے مزید کہا کہ مٹی کا عالمی دن تقاضا کرتا ہے کہ مٹی کو غلاظت اور آلودگی سے بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی جائے، منفی اور نقصان دہ منافع کے استعمال سے روکا جائے، جوہڑوں اور نشیب و فراز کی اصلاح کی جائے اور کرۂ ارض کو ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے مسائل سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کا ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات میں حصہ نہ ہونے کے برابر مگر متاثرہ ممالک میں اولین ممالک میں شامل ہے۔ حالیہ سیلاب، طوفانی بارشوں سمیت دیگر عوامی اسی سبب ہیں۔ ایک جانب اس معاملے پر پاکستان کا مقدمہ انتہائی جاندار طریقے سے لڑا جائے تو دوسری جانب زمینی کٹاؤ کے بچاؤ، میٹھے پانی کے ذخیروں، نئے آبی ذخائر اور جنگلات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شجرکاری مہم کے سلسلے میں بھی عملی طور پر اقدامات اٹھائیں اور اس سلسلے میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کی خدمات لینے کے ساتھ ایک منظم مہم کا آغاز کیا جائے۔







