بچوں پر تشدد اور کم عمری مزدوری اسلامی تعلیمات کے خلاف سنگین جرم ہے، علامہ عارف واحدی
شیعیت نیوز: اسلامک ریلیف پاکستان کی جانب سے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین المذاہب مکالمہ، علامہ عارف حسین واحدی سمیت مختلف مذاہب کے رہنما شریک
اسلامک ریلیف پاکستان نے وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی اور یونیسف کے تعاون سے بچوں کے حقوق کے موضوع پر ایک اہم بین المذاہب مکالمہ کی تقریب منعقد کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی سیکریٹری وزارتِ مذہبی امور ڈاکٹر سید عطا الرحمان شاہ تھے۔
پروگرام کے آغاز میں اسلامک ریلیف کے ذمہ داران نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد مذہبی تعلیمات کی روشنی میں بچوں کے تحفظ، حقوق اور شعور و آگاہی کے لیے مشترکہ بیانیہ تشکیل دینا اور معاشرے میں بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف متحد آواز بلند کرنا ہے۔
تقریب کا اہم حصہ پینل ڈسکشن تھا جس میں معروف مذہبی رہنماؤں علامہ عارف حسین واحدی، علامہ ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی، ڈاکٹر سیما فرزاد، سردار ہومی سنگھ، مسٹر کرسٹوفر شرف اور پنڈت رکیش چند راجپوت نے شرکت کی اور بچوں کے حقوق پر تفصیلی گفتگو کی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ مظالم پر اسلامی دنیا کی مجرمانہ خاموشی تاریخ کا ناقابلِ معافی داغ ہے، مفتیِ اعظم عمان
نیشنل رحمۃ للعالمین اتھارٹی کے ممبر اور شیعہ علما کونسل کے مرکزی نائب صدر علامہ عارف حسین واحدی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں بچوں کے حقوق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قرآن مجید اور سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بچوں کے احترام، تعلیم و تربیت اور تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کم عمری میں مزدوری، بھٹوں، ورکشاپوں یا گھروں میں کام، تعلیم سے دوری، جسمانی اور جنسی تشدد اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے اور قابلِ مذمت جرم ہے۔
علامہ عارف واحدی نے کہا کہ بچے قوم کا مستقبل اور معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کا تحفظ سب سے پہلے ریاست کی ذمہ داری ہے، پھر معاشرے کے تمام طبقات اور بالخصوص علمائے کرام کو محراب و منبر سے اس حوالے سے شعور بیدار کرنا ہوگا۔
اختتام پر علامہ عارف واحدی نے اسلامک ریلیف کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے بھی ان کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر سید عطا الرحمان شاہ نے بھی اہم خطاب کیا اور تمام شرکاء نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی اور مسلسل کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔







