شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، ہم موت سے نہیں ڈرتے بلکہ شہادت چاہتے ہیں، شیخ ابراہیم زکزاکی

04 دسمبر, 2025 13:22

شیعیت نیوز: نائیجیریا کی اسلامی تحریک کے رہنما حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ ابراہیم زکزاکی نے دارالحکومت ابوجا میں شہدائے نائیجیریا کے اہل خانہ سے خطاب کرتے ہوئے شہدا کے فرزندوں سے کہا کہ وہ خدا کی راہ میں ثابت قدم رہیں، جہاد و مزاحمت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور اپنے شہید والدین کے روشن راستے کو عزم و یقین کے ساتھ جاری رکھیں۔ شہدا کا خون امتِ اسلامیہ کی بیداری، عزت اور مستقبل کی کامیابی کا مضبوط سہارا ہے۔

تحریک اسلامی نائیجیریا کے رہنما نے کہا کہ شہیدوں نے ایمان، شجاعت اور خدا سے وفاداری کی راہ میں جان قربان کی اور اب ان کے وارثوں کی ذمہ داری ہے کہ اسی راستے پر ڈٹ کر کھڑے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت فاطمہ زہرا تمام عورتوں کی سردار، اسلام عورت کو اعلیٰ مقام دیتا ہے، رہبر معظم انقلاب

شیخ زکزاکی نے ’’یوم الشہدا‘‘ کی یاد مناتے ہوئے کہا: دشمن کی گولیاں اور دھمکیاں لوگوں کو ڈرانے کے لیے ہوتی ہیں تاکہ وہ ہماری صفوں میں نہ آئیں۔ جو موت سے ڈرتا ہو، اس کا ہماری صف میں کوئی مقام نہیں۔ یہ راستہ ان لوگوں کا ہے جو خدا کی خاطر جان دینے سے نہیں گھبراتے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ہمارے درمیان رہ کر بھی شہادت سے گھبراتے ہیں، انہیں الگ ہو جانا چاہیے، کیونکہ یہ محاذ تردد اور خوف کا نہیں بلکہ یقین اور جرأت کا ہے۔

رہبرِ تحریک اسلامی نائیجیریا نے کہا کہ ہم وہ لوگ نہیں جو دشمن کو دعوت دیں کہ ’’آؤ ہمیں قتل کرو‘‘، بلکہ ہم خدا کی راہ پر مضبوطی سے کھڑے ہیں، چاہے نتیجہ شہادت ہی کیوں نہ ہو۔

انہوں نے برسوں کی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ہمیں کس چیز سے ڈرائیں گے؟ گولی سے؟ جو کچھ وہ کر سکتے تھے کر چکے، مگر ہم اب بھی کھڑے ہیں۔ اب ہمیں ڈر نہیں لگتا بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے شہدا کی صف میں جا ملیں۔

ظالموں کو مخاطب کرتے ہوئے شیخ زکزاکی نے کہا: تم اپنی آخری حد تک پہنچ چکے ہو۔ گولیاں چلا کر تم نے اپنی اصل پہچان خود ظاہر کر دی۔ اب تمہارے پاس ہمیں ڈرانے کے لیے کچھ باقی نہیں۔ شہدا کے اہل خانہ جنہوں نے اپنے پیاروں کو تمہارے ہاتھوں کھویا، وہ کبھی تم سے نہیں ڈریں گے۔ اگر دنیا میں کوئی نہیں ڈرے گا تو وہ شہدا کے گھرانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان حق کے راستے پر ثابت قدم رہے۔ پھر اس کے سامنے دو انجام ہیں: یا خدا کی راہ میں موت، یا شہادت، اور دونوں ہی نصرتِ الٰہی ہیں۔ قرآن کا وعدہ ہے: اِحدَی الحُسنَیَین، یعنی یا فتح یا شہادت۔

انہوں نے سورۂ صف کی آیتِ 13 تلاوت کی: «نَصرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتحٌ قَریبٌ» اور فرمایا کہ یہ نصرت دنیا کی فتح سے شروع ہوتی ہے اور بہشت کی دائمی کامیابی پر ختم ہوتی ہے۔

آخر میں شیخ زکزاکی نے شہدا کے بچوں سے کہا کہ وہ ثابت قدمی اور بے خوفی کی علامت بنیں، دنیا کو دکھائیں کہ ان کے والد کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ استقامت کے ساتھ زندگی گزارنا بھی کامیابی ہے اور شہادت تک پہنچ جانا بھی بلندترین کامیابی ہے۔

11:31 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top