سندھ بھر میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کا یومِ سیاہ
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین سندھ کی جانب سے تحریک آئین پاکستان کے تحت سندھ بھر میں 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف جمعہ کو یومِ سیاہ منایا گیا۔ ضلعی دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے جبکہ کارکنان نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا اور مختلف اضلاع میں مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ اشفاق وحیدی کی وزیر مذہبی امور سردار یوسف سے اہم ملاقات، فرقہ واریت کے خلاف مشترکہ آواز اور امنِ عالم کے فروغ پر زور
علامہ صادق جعفری، علامہ حیات عباس، علامہ مبشر حسن اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم، آئینِ پاکستان کی بنیاد، عدلیہ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف سازش ہے۔ ان کے مطابق یہ ترمیم عوام کے بنیادی حقوق، صوبائی خودمختاری اور ریاستی نظامِ انصاف کے لیے سنگین خطرہ بنتی جارہی ہے۔ آج آئین شکنی اور آئینی پامالی کے خلاف پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ وکلاء اور باشعور عوام کا اس غیر آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج، اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کا مستعفی ہونا شدید غم و غصے کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کی بقا ہی ملک کی بقا کی ضمانت ہے، لیکن موجودہ پیپلز پارٹی نے اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی آئین پر شب خون مارا گیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور دیگر غیر جمہوری قوتیں مل کر آئین پر حملہ آور ہوئی ہیں۔ پاکستان کے عوام اس ملک کی عزت، سر بلندی، قانون کی بالادستی اور جمہوریت کی بقا کے لیے متحد ہیں۔ فارم 47 کی پیداوار موجودہ جعلی حکومت نے پہلے عوامی منڈیٹ اور اب پاکستان کے آئین پر حملہ کیا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ یہ ترمیم آئینی ڈھانچے میں غیر ضروری مداخلت ہے، جس سے ریاستی اداروں کے درمیان توازن بگڑنے اور عوامی حقوق محدود ہونے کا خدشہ ہے۔ اس ترمیم کا مقصد آئین کو کمزور کرنا اور اختیارات کو مخصوص طبقے کے ہاتھ میں مرکوز کرنا ہے، جو جمہوری اصولوں اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔
رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کیا جائے اور حکومت اس ترمیم کو فوری واپس لے، تاکہ آئین کی بالادستی، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کا توازن برقرار رہے۔ قومی اتفاقِ رائے کے بغیر ایسی ترمیم کو زبردستی مسلط کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثنا، سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر مجلس وحدت مسلمین سندھ کے صوبائی دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے گئے۔ کارکنان نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں میں بھرپور شرکت کی اور ترمیم کے خلاف اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ متنازع ترمیم آئینی ڈھانچے اور عدالتی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔







