ایران کی طاقت کو کم سمجھنے کا نتیجہ اسرائیل اور امریکہ کی شکست ہے، بریگیڈیئر جنرل نائینی
شیعیت نیوز: یونیورسٹی آف تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی نے جون میں امریکہ کی حمایت یافتہ اسرائیلی مسلط کردہ 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ دنیا کی سب سے پیچیدہ جنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی ایران کی طاقت کے بارے میں غلط اندازے اور مادی طاقت پر انحصار ان کی شکست کا بنیادی سبب بنے۔
انہوں نے آٹھ سالہ دفاعِ مقدس کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی دشمن نے بڑا بلنڈر کیا تھا اور اسلامی نظام کی اصل طاقت—یعنی عوامی حمایت—کو کم سمجھا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران کو محدود کرکے چین کی طرف بڑھنا چاہتا ہے، ایرانی رکن پارلیمنٹ
نائینی نے زور دیا کہ حالیہ جنگ ایک اسٹریٹجک موڑ تھی۔ ان کے مطابق 12 روزہ جنگ حقیقت میں ایران کی لڑائی نیٹو ممالک اور امریکی سینٹکام کے ساتھ تھی اور اس کے نتیجے میں مغربی ایشیا میں طاقت کا توازن بدل گیا۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے ان ایرانی کمانڈروں کا بھی ذکر کیا جنہیں اسرائیلی رژیم نے شہید کیا، جن میں رشید، سلامی اور حاجی زادہ شامل ہیں، جو ہمیشہ جنگی منظرناموں کا گہرائی سے جائزہ لیتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں شہید کیا گیا تو واضح ہو گیا کہ جنگ کا آغاز یقینی ہے۔
نائینی نے کہا کہ اسرائیلی مسلط کردہ 12 روزہ جنگ جدید، نئی اور ہائبرڈ جنگوں کے خلاف سبق سیکھنے کا ماڈل ہے۔ اس جنگ نے واضح کیا کہ سائبر اسپیس، میڈیا، سماجی ادراک اور ٹیکنالوجی جدید جنگوں میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
13 جون کو اسرائیل نے ایران پر کھلی اور بلاجواز جارحیت کی، اس وقت جب واشنگٹن اور تہران جوہری مذاکرات میں مصروف تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں شروع ہونے والی جنگ میں کم از کم 1,064 افراد شہید ہوئے جن میں فوجی کمانڈر، جوہری سائنس دان اور عام شہری شامل تھے۔
امریکہ بھی اس جنگ میں شامل ہوا اور تین ایرانی جوہری مراکز پر بمباری کی، جو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی تھی۔
جوابی کارروائی میں ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات اور قطر میں امریکی فوجی اڈے العدید کو نشانہ بنایا، جو مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔
24 جون کو ایران نے اسرائیلی رژیم اور امریکہ کے خلاف کامیاب جوابی کارروائیوں کے ذریعے جارحیت کو روکنے میں کامیابی حاصل کی۔







