اسرائیل کی جانب سے ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی: ہیومن رائٹس واچ نے جنگی جرائم قرار دے دیا

20 نومبر, 2025 16:07

شیعیت نیوز : انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے 2025 کے آغاز میں مغربی کنارے کے تین فلسطینی کیمپوں سے لاکھوں افراد کو بے دخل کرنا جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

تنظیم کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جنین، طولکرم اور نور شمش کے تقریباً 32,000 رہائشیوں کو آپریشن آئرن وال کے دوران غاصب فورسز نے زبردستی نکالا۔ بے دخل افراد کو واپس جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور سینکڑوں گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : مدرسہ القائم قم میں درسِ اخلاق: ایم ڈبلیو ایم کے وائس چیئرمین علامہ سید احمد اقبال رضوی کا طلاب سے خطاب

ہیومن رائٹس واچ کی محقق میلینا انصاری نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ دس ماہ گزرنے کے باوجود کسی بھی خاندان کے رہائشی اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔

ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ اس کارروائی کے ذمہ دار اعلیٰ اہلکاروں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مقدمات چلائے جانے چاہئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے گھروں پر دھاوا بولا، املاک کو نقصان پہنچایا اور ڈرونز پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے خاندانوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا۔ متاثرین کے مطابق جب وہ بھاگ رہے تھے تو بلڈوزرز نے عمارتیں مسمار کیں جبکہ اسرائیلی فورسز نے کوئی پناہ یا امداد فراہم نہیں کی، جس کے باعث خاندان رشتہ داروں کے گھروں، مساجد، اسکولوں اور خیراتی اداروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔

یاد رہے کہ جنیوا کنونشنز کے تحت عارضی عسکری وجوہات یا شہریوں کی حفاظت کے علاوہ مقبوضہ علاقوں سے آبادی کو زبردستی بے دخل کرنا عالمی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

3:59 صبح مارچ 8, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top