مجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان نے الیکشن کے لیے مکمل تیاری کا اعلان
شیعیت نیوز : مجلس وحدت المسلمین گلگت بلتستان کے صدر سید علی رضوی نے کہا ہے کہ الیکشن کے لیے ہماری تیاری مکمل ہے اور ہم بڑا سرپرائز دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کاظم میثم کو کئی حلقوں سے الیکشن لڑنے کی آفر ہوئی ہے۔ غیر متنازعہ اور اچھی شہرت کی حامل شخصیت کو نگران وزیراعلی بنایا جائے، متنازعہ شخصیت کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تو پورا انتخابی عمل مشکوک ہو جائے گا۔ تینوں ریجنز میں سے کسی اہل شخصیت کو وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کیا جائے بصورت دیگر ہم خاموش نہیں رہیں گے۔
ایک انٹرویو میں سید علی رضوی نے کہا کہ ہم اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی سیاست کرتے ہیں اور ہم نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ہمارے بندے کو ہی نگران وزیر اعلیٰ بنایا جائے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اہل شخصیت جس مسلک اور علاقے سے بھی ہو ہمیں بطور نگران وزیراعلیٰ قابل قبول ہو گی۔ اپوزیشن لیڈر کو بھی یہی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ تینوں ریجنز سے اہل افراد کے نام وزارت اعلیٰ کے لیے پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدیں غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیں
انہوں نے کہا کہ جب تک نگران حکومت غیر متنازعہ اور اچھی شہرت کی حامل شخصیات پر مشتمل نہیں ہو گی تب تک انتخابات صاف، شفاف اور غیر جانبدار نہیں ہوں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کی تیاری مکمل ہے، ہماری کارکردگی عوام کے سامنے ہے اور ہم عوامی حقوق کی جنگ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ کاظم میثم نے اپنی بساط کے مطابق عوام کی نمائندگی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکردو حلقہ نمبر 2 کے علاوہ حلقہ نمبر 1 اور دیگر حلقوں سے بھی لوگ کاظم میثم کو الیکشن لڑنے کی دعوت دے رہے ہیں مگر اس بات کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا کہ کاظم میثم کن کن حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ سیاسی کونسل فیصلہ کرے گی کہ کاظم میثم کن کن حلقوں سے الیکشن لڑیں گے کیونکہ انہیں سکردو حلقہ نمبر 1 اور نگر سمیت کئی حلقوں سے الیکشن لڑنے کی آفر ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات حتمی ہے کہ ایم ڈبلیو ایم اس دفعہ گلگت بلتستان کے دس سے گیارہ حلقوں سے الیکشن میں حصہ لے گی۔ فارم 47 نہیں بلکہ 45 کے تحت ہی رزلٹ آئیں گے، کیونکہ فارم 47 کا تجربہ جی بی میں نہیں دہرایا جا سکتا کیونکہ اس خطے کی الگ حیثیت ہے۔







