ایران نے حساس جوہری معلومات IAEA کے ساتھ شیئر نہ کرنے کا اعلان کر دیا

16 نومبر, 2025 16:38

شیعیت نیوز: ایران کے جوہری مذاکراتی وفد کے مشیر سید محمد مرندی نے کہا ہے کہ تہران نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ غیرضروری اور حساس جوہری معلومات شیئر نہیں کرے گا، کیونکہ ماضی میں معلومات کے افشاء ہونے کے سنگین خدشات سامنے آ چکے ہیں۔

مرندی نے عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ اور یورپ اب ایران پر عملی دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، کیونکہ کئی دہائیوں سے جاری ناکام سفارت کاری، وعدہ خلافیوں اور غیر مؤثر دباؤ نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سکردو میں پیپلز پارٹی اور اسلامی تحریک کا ممکنہ انتخابی اتحاد خطرے میں

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم کی دھمکیاں بھی بے اثر ثابت ہوئیں، کیونکہ ایرانی عوام اور حکمران حلقوں نے محسوس کیا کہ یورپ کے پاس کوئی حقیقی اثر و رسوخ باقی نہیں رہا۔

مرندی کے مطابق ایران نے ہمیشہ جوہری معاہدے کی اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، جبکہ امریکہ اور یورپ نے مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے IAEA پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب ایجنسی پر مکمل اعتماد نہیں کرتا، کیونکہ ماضی میں حساس جوہری معلومات امریکہ اور اسرائیل تک پہنچنے کے شواہد موجود ہیں۔ تہران کسی بھی معلومات کی فراہمی سے پہلے اس کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی چاہتا ہے۔

مرندی نے کہا کہ مغربی دباؤ، پابندیاں، اسنیپ بیک میکانزم اور حملے کی دھمکیاں اب ایران کے لیے بے معنی ہو چکی ہیں، کیونکہ تہران نے روس، چین اور دیگر برکس ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کر لیے ہیں۔

انہوں نے یورپ پر امریکی پالیسی کی اندھی تقلید کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران پر یورپی خاموشی نے بھی ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

مرندی نے واضح کیا کہ مغرب کی قراردادیں یا بیانات ایران کی پالیسی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتے، کیونکہ تہران اپنی قومی سلامتی کو ترجیح دیتا ہے اور اس حوالے سے بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتا۔

8:37 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔