کیڈٹ کالج وانا حملہ: افغان ماسٹر مائنڈ اور سہولت کاروں کی اہم تفصیلات منظرعام پر
شیعیت نیوز : کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے ماسٹر مائنڈ اور اس کے سہولت کاروں کی اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کیڈٹ کالج وانا پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد افغان شہری تھے اور حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حملے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا حتمی حکم خارجی نور ولی محسود نے دیا، جب کہ حملے کی منصوبہ بندی خارجی ’’زاہد‘‘ نے کی تھی، اور دہشتگرد افغانستان سے موصول ہونے والی ہدایات پر مکمل عمل کررہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : حزب اللہ نے سنی، شیعہ، عیسائی سب کی حفاظت کی ہتھیار ڈالنے نہیں دیں گے، لبنانی اہلِ سنت علماء
ذرائع کا کہنا ہے کہ خارجی نور ولی محسود کے حکم پر حملے کی ذمہ داری ’’جیش الہند‘‘ کے نام سے قبول کی گئی۔ افغان طالبان کی جانب سے فتنۂ خوارج پر دباؤ رہتا ہے کہ اپنی اصل شناخت استعمال نہ کریں کیونکہ اصل شناخت سامنے آنے سے ان پر پاکستان اور دوست ممالک کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق آڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ خوارج ’’جیش الہند‘‘ کا نام متعدد بار لیتے ہوئے اردو میں بات کررہے ہیں۔ اس حملے کے لیے تمام ساز و سامان افغانستان سے فراہم کیا گیا، جب کہ سامان میں امریکی ساختہ ہتھیار شامل تھے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ کیڈٹ کالج وانا پر حملے کا مقصد پاکستان میں سکیورٹی خدشات بڑھانا تھا، جو بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی ڈیمانڈ تھی۔ ذرائع کے مطابق حملے میں مارے گئے افغان دہشتگردوں کی شناخت نے تمام شکوک و شبہات ختم کر دیے ہیں۔







