غـزہ میں امن فوج بھیجنے کا فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، ڈی جی آئی ایس پی آر

03 نومبر, 2025 14:28

شیعیت نیوز: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی کی ضمانت مسلح افواج ہیں اور یہ ضمانت کابل کو نہیں دینی چاہیے۔ سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بنا کر کھیلتے ہیں، ان سے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں؟

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے کبھی طالبان کی آمد پر جشن نہیں منایا اور ہماری طالبان گروپوں کے ساتھ ٹکراؤ جاری ہے۔ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر تنظیموں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

ڈرون کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ کوئی ڈرون معاہدہ نہیں ہے اور طالبان رجیم کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ اطلاعات نے کئی بار اس کی وضاحت کی ہے اور امریکہ کے ڈرون پاکستان سے افغانستان نہیں جاتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے طالبان رجیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کی سہولت کاری کر رہا ہے۔ استنبول میں طالبان کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنا ان کا کام ہے۔ جب یہاں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ہوئے تو کچھ عناصر بھاگ کر افغانستان چلے گئے — ان کو ہمارے حوالے کیا جائے، ہم آئین و قانون کے مطابق ڈیل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ دہشت گردی، جرائم پیشہ افراد اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ ہے؛ یہ گروہ افیون کی کاشت اور اسمگلنگ سے بڑے منافع حاصل کرتے ہیں جو وار لارڈز اور دیگر عناصر کے ساتھ مل کر تقسیم ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملتان میں “مہدویت اور عصرِ حاضر کے تقاضے” کے عنوان سے علمی سیمینار کا انعقاد

فوجی ذرائع کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر فوج کے اندر کوئی نئے عہدے بننے ہوں تو وہ حکومت کا اختیار ہے اور اس بارے میں فوج کا رول مخصوص ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران تقریباً 200 اہلکار اور افسران شہید ہوئے ہیں اور اس نوعیت کے آپریشنز جاری ہیں۔

گورنر راج کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے اور جو لوگ مساجد و مدارس پر حملے کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

استنبول کانفرنس کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "دہشت گردی نہیں ہونی چاہیے، کسی قسم کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے، افغانی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مسلح افواج اور عوام کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور کسی کی طرف ہاتھ پھیلانے یا منت سماجت کرنے کا سوچے گا بھی نہیں۔

غزہ میں فوج اعزام کے سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ یہ حکومت کا معاملہ ہے اور فوج بذاتِ خود اس بارے میں فیصلہ نہیں کرتی۔

انہوں نے سرحدی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی سرحد تقریباً 2600 کلومیٹر طویل ہے، ہر جگہ چوکی بنانا ممکن نہیں، حدود پر بعض اوقات دشمن کے گارڈز دہشت گردوں کو سرحد پار کراتے ہیں اور ہماری چوکیوں پر حملے ہوتے ہیں جن کا جواب دیا جاتا ہے۔

آخر میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ معرکۂ حق میں حکومت، کابینہ، فوج اور سیاسی جماعتوں نے مل کر فیصلے کیے ہیں۔ اگر کوئی صوبائی حکومت دہشت گردی سے بات چیت کی بات کرتی ہے تو یہ عمل کنفیوژن پھیلانے والا ہے۔ انہوں نے دوبارہ کہا: "طالبان ہمارے سیکیورٹی اہلکاروں کے سروں کے فٹ بال بنا کر کھیلتے ہیں — ان سے مذاکرات کیسے ہو سکتے ہیں؟”

9:42 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top