کالعدم سپاہِ صحابہ میں دراڑیں: لدھیانوی اور معاویہ اعظم گروپوں کے درمیان کشیدگی عروج پر
شیعیت نیوز: سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی)، جو اب اہلِ سنت والجماعت (اے ایس ڈبلیو جے) کے نام سے سرگرم ہے، پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیم ہے جس کے فرقہ وارانہ ایجنڈے اور شیعہ مخالف ماضی کے تناظر میں اندرونی اختلافات عام ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس تنظیم کے اندر تکفیری احمد لدھیانوی گروپ اور معاویہ اعظم گروپ کے درمیان سیاسی و نظریاتی اختلافات، قیادت کے دعوٗں اور الیکشن سے متعلق تنازعات نے کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
پس منظر کے مطابق، 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات سے قبل جھنگ سے قومی اور صوبائی نشستوں کے لیے نامزدگیوں پر اختلافات عیاں ہوئے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ سربراہ احمد لدھیانوی اور سابق سرکردہ رہنما کے بیٹے معاویہ اعظم کے مابین امیدواروں کے انتخاب پر شدید تنازع پیدا ہوا، اور اس دوران معاویہ اعظم کی کاغذاتِ نامزدگی کی نااہلی کے الزامات اور رد و بدل نے معاملے کو بھڑکا دیا۔
یہ بھی پڑھیں : پنجاب میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے 18 دہشت گرد گرفتار
ذرائع کے مطابق معاویہ اعظم کے کچھ حامیوں کا رویہ سنی علما کونسل سے جھگڑے کا باعث بنا، کیونکہ معاویہ نے الیکشن میں اپنی مرضی کے امیدواروں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی، جب کہ لدھیانوی گروپ نے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے تحت مختلف نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے۔
قیادت کے کنٹرول سے متعلق اختلافات میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ احمد لدھیانوی طویل عرصے سے تنظیم کی قیادت میں ہے (وہ 2003ء میں اعظم طارق کے قتل کے بعد سربراہی میں آئے اور 2014ء میں سرپرستی کا عہدہ ملا)، جبکہ معاویہ اعظم نے تنظیم میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی اور بعض حلقوں میں اُنہیں متبادل رہنما کے طور پر پیش کیا گیا۔ 2013ء کے انتخابات میں تنظیم کی ناکامی اور اندرونی تنازعات نے اس دراڑ کو مزید گہرا کر دیا۔
نظریاتی اختلافات بھی نمایاں ہیں: لدھیانوی گروپ نے تنظیم کو سیاسی طور پر قومی دھارے میں لانے کی کوشش کی، جب کہ معاویہ اعظم گروپ شدت پسندی کے مائل ہے اور تنظیم کے اصل فرقہ وارانہ ایجنڈے کو برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔ ماضی میں لدھیانوی کے اور لشکرِ جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کے ساتھ اختلافات نے بھی تنظیمی تقسیم میں کردار ادا کیا؛ بعض اطلاعات کے مطابق معاویہ اعظم کے گروپ کے کچھ عناصر لشکرِ جھنگوی کے سابق اراکین سے روابط رکھتے ہیں۔
وسائل اور کنٹرول کے جھگڑوں میں مالی ذرائع، مساجد اور مدارس کا کنٹرول ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق 2012ء تک بہاولنگر اور رحیم یار خان میں متعدد مساجد و مدارس کا کنٹرول ایک مخصوص دھڑے کے ہاتھ میں تھا، جس کے تناظر میں دوسرا دھڑا دوبارہ اس کنٹرول کا خواہاں رہا۔ اجلاسوں کے دوران سرد مہری اور رفقائے کار کے بیچ اختلافات نے بھی اعتماد میں دراڑیں بڑھائیں۔
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ معاویہ اعظم کے قریبی حلقوں میں ایسی افواہیں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق وہ لدھیانوی کی سیاست اور قیادت کو کمزور کرنے کے لیے سازش کرنے کے خواہاں ہیں — تاہم یہ تمام دعوے مبینہ نوعیت کے ہیں اور ابھی تفتیش اور تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔ (نوٹ: ذاتی یا تفصیلی تشہیرِ تشدد/قتل کے طریقوں والی تفصیلات خبروں سے خارج کر دی گئی ہیں۔)
ان اختلافات کے نتیجے میں سپاہِ صحابہ (اہلِ سنت والجماعت) عملی طور پر دو دھڑوں میں منقسم نظر آتی ہے، جس سے تنظیم کی سیاسی اور تنظیمی طاقت متاثر ہوئی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث ریاستی اداروں کی کارروائیاں اور پابندیاں بھی بڑھیں، اور بعض حلقے لدھیانوی کی مبینہ ریاستی قربت پر تحفظات ظاہر کرتے رہیں۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں گزشتہ دنوں تکفیری کارکنان کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی اسی تقسیم اور اندرونی انتشار کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، اور اس واقعے نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔







