شہید عادل شاہ کے قاتل کہاں؟: اورنگی ٹاؤن میں شیعہ نوجوان کی شہادت اور اداروں کی خاموشی
شیعیت نیوز : ہر وہابی کے اندھے قتل کے پیچھے ایران اور شیعوں کو پکڑنے والی نظریں عادل شاہ کے قاتلوں کی تلاش میں تاحال ناکام نظر آرہی ہیں۔ عادل شاہ کو گذشتہ روز اورنگی ٹاون سیکٹر ساڑھے گیارہ منصور نگر میں کالعدم سپاہِ صحابہ / لشکرِ جھنگوی کے مسلح دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے بے دردی سے شہید کردیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق عادل شاہ جو کہ سیلز مین کے طور پر اپنا روزگار کماتے تھے کل شب منصور نگر اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں تکفیریوں کے گڑھ میں اپنا آرڈر سپلائی کرکے واپس پلٹے تو کالعدم سپاہِ صحابہ کے مسلح دہشت گردوں نے پہلے انہیں ایک گولی پیچھے اور دو گولیاں سامنے سے مار کر شہید کردیا۔
موقع پر موجود مقامی ایس ایچ او نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جائے وقوعہ کے علاقے میں لوڈ شیڈنگ اور لائٹ نہ ہونے کے سبب ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا، یہ عجیب منطق ہے؛ ابھی سپاہِ صحابہ کا کوئی دہشت گرد آپسی لڑائی میں بھی مارا جائے تو قاتل کو دو دن میں گرفتار کرکے اُس کا پورا شجرہ بتا دیا جاتا ہے یا یہ کہیں کہ بنا دیا جاتا ہے۔ شیعہ قتل ہو تو اداروں کو قاتل کے بجائے اندھیرا ہی کیوں نظر آتا ہے؟ جبکہ دہشتگرد مر جائے تو ادارے کے افسران پریس کانفرنس کرنے خود بیٹھ جاتے ہیں، یہ شیعہ تعصب جو نہیں تو اور کیا ہے؟؟
یہ بھی پڑھیں : شہید عادل حسین کی نماز جنازہ ادا، آہوں اور سسکیوں میں وادی حسینؑ میں سپرد خاک
واضح رہے کہ شہید عادل حسین ولد گل حسن بے گناہ مظلوم شیعہ، مسنگ پرسن مومن جناب وسیم صاحب کے بھانجے تھے۔ شہید عادل کے اور دیگر عزیز بھی محمد ﷺ و آلِ محمدؑ کی مودت میں شہید ہو چکے ہیں۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملک دشمن دہشت گرد جماعت اور خوارج کے سرغنہ اورنگزیب فاروقی کھلے عام اسلام آباد کی سرزمین پر شیعیانِ حیدر کرارؑ کے خلاف غلیظ زبان کا استعمال کرتا ہے۔ اپنے آپسی اختلافات اور اقتدار کی ہوس میں مبتلا لیڈروں کی رسی کشی کے سبب مارے جانے والے دہشت گردوں کے قتل کا الزام ایران اور شیعوں پر ڈال دیا جاتا ہے، پھر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، لیکن اس دہشت گردوں کے سرغنہ کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں۔
لگتا ہے کہ اب کوئی وزیرِ داخلہ، آئی جی یا سی سی پی او عادل کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کوئی پریس کانفرنس نہیں کرے گا؛ نہ ہی دو دن میں قاتل پکڑے جائیں گے اور نہ ہی اس قتل میں ملوث کسی مجرم کا تعلق سپاہِ صحابہ، سعودی عرب یا افغانستان سے جوڑا جائے گا — کیونکہ یہ سب ان دہشت گردوں سے خود ملے ہوئے ہیں۔







