مقاومت لبنان کی خودمختاری کا اصل ستون ہے، شیخ نعیم قاسم

31 اکتوبر, 2025 15:40

شیعیت نیوز: حزبِ اللہ لبنان کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور طاقت کا اصل ستون بیرونی حمایت نہیں بلکہ عوامی مقاومت ہے۔ ان کے بقول، امریکہ کسی صورت غیرجانبدار ثالث نہیں بلکہ اسرائیلی جارحیت کا کھلا حامی ہے۔

شیخ نعیم قاسم نے مزید کہا کہ جو لوگ مقاومت کرتے ہیں، وہی اپنی زمین واپس حاصل کرتے ہیں، اس کے برعکس جو سودے بازی کرتے ہیں وہ اپنا وطن کھو دیتے ہیں۔ انہوں نے جنوبی لبنان کے زیتون کے باغات اور سرحدی علاقوں کے کسانوں کو حاکمیت کا حقیقی محافظ قرار دیا اور انہیں قومی وحدت کا علمبردار کہا۔

یہ بھی پڑھیں : ایک جنگی مجرم ہمیں دھمکانے کی کیسے جرأت کر سکتا ہے، انصاراللہ

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ زمین ایک نعمت ہے جس کی حفاظت اور احیاء ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ شیخ قاسم نے جهادِ سازندگی جیسے اداروں کی کوششوں کو سراہا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ زرعی پیداوار کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسیاں اپنائی جائیں۔

سربراہِ حزبِ اللہ نے امریکہ پر شدید تنقید کی اور کہا کہ واشنگٹن نہ صرف اسرائیلی حملوں کو نظر انداز کرتا ہے بلکہ انہیں جواز بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسرائیلی تجاوزات، شہریوں کی ہلاکتوں اور تباہ کاریوں کے بارے میں امریکہ کا موقف کیا ہے اور کہا کہ امریکہ نے کبھی لبنان کے لیے خیر نہیں چاہی۔

انہوں نے صدرِ لبنان کے اس فیصلے کی ستائش کی جس میں فوج کو اسرائیلی جارحیت کا جواب دینے کا حکم دیا گیا، اور کہا کہ یہ ایک ذمہ دارانہ مؤقف ہے جسے قومی وحدت کے ذریعے مزید تقویت دی جانی چاہیے۔ شیخ نعیم قاسم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوج کی حمایت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ قومی خودمختاری کا تحفظ ممکن ہو۔

شیخ نعیم قاسم نے واضح کیا کہ حزبِ اللہ کسی سے حکم نہیں لیتی اور نہ ہی لبنان کو دشمنوں کی مرضی کے مطابق چلنے دے گی۔ ان کے مطابق، قومی وحدت ہی وہ راستہ ہے جس سے وطن کی آزادی ممکن ہے، اور مزاحمت کا مقصد صرف اور صرف وطن کی بازیابی ہے۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اسرائیل کو وہی معاہدہ تسلیم کرنا ہوگا جو لبنان نے کیا ہے؛ کوئی نیا معاہدہ صرف اسرائیل کو بری الذمہ کرے گا اور نئی جارحیت کا راستہ کھولے گا۔

10:19 شام اپریل 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔