پاکستان کیISF میں شمولیت کو پاکستانی قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری

29 اکتوبر, 2025 09:44

شیعیت نیوز : سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان، نے میڈیا سیل سے جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر قائم کی جانے والی “انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF)” میں پاکستان کے فوجی اہلکاروں کی شرکت پر حکومتِ پاکستان کے اندر غور و خوض جاری ہے اور اس مبینہ منصوبے پر مجلس وحدت مسلمین گہری تشویش اور دو ٹوک مخالفت کا اظہار کرتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ معاملہ تاریخی، قانونی اور اخلاقی اعتبار سے سنگین نوعیت کا ہے — غزہ کے عوام نے کسی غیر ملکی فوجی تعیناتی کی منظوری نہیں دی، اور مقامی رضا مندی کے بغیر کسی فوجی داخلے کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے بنیادی اصولوں کے منافی سمجھا جائے گا۔ غیر مقامی، غیر رضاکارانہ فوجی موجودگی مقامی عوام میں نفرت اور عدمِ اعتماد کو جنم دے گی۔

یہ بھی پڑھیں : جب علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے خیالات کو سنتا اور دیکھتا ہوں تو رشک ہوتا ہے: علامہ سید شہنشاہ نقوی

انہوں نے کہا کہ اگر ISF کو اقوامِ متحدہ کی شفاف اور باقاعدہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بجائے کسی مخصوص قوت یا بلاک کی قیادت میں چلایا جائے تو اس کی غیرجانبداری مشکوک ہو جائے گی اور وہ واشنگٹن یا تل ابیب کے مفادات کی پاسبان بن سکتی ہے۔ متعدد رپورٹس کے مطابق اس فورس کے مینڈیٹ، قیادت اور کردار پر واضح تشخیص درکار ہے؛ موجودہ تجویز کے تحت ISF کو "حماس کو غیر مسلح کرنا” جیسا مینڈیٹ دیا جا سکتا ہے جو عملی طور پر ناممکن اور مزاحمتی تحریکوں کو دبانے والا ہوگا — اس قسم کے مینڈیٹ سے پاکستان کو ایسی کارروائی میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق ہوگا جسے اسرائیلی قبضے کو نافذ رکھنے یا تقویت دینے کے مترادف سمجھا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس فورس میں شمولیت مسلم و عرب دنیا میں تقسیم کو بڑھا سکتی ہے اور پاکستان کی روایتِ حامیِ فلسطین کے وقار و اخلاقی موقف کے منافی سمجھی جائے گی، جب کہ عوامی ردِ عمل اور اندرونی سیاسی اثرات قومی مفاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مجلس وحدت مسلمین نے حکومتِ پاکستان سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ISF میں کسی بھی قسم کی فورمیشن یا فوجی شمولیت سے فوراً باز رہے اور بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا موقف ہمیشہ کی طرح فلسطینیوں کے حقِ خودِ ارادیت، انسانی حقوق اور انصاف کے واضح دفاع پر مبنی رہے۔ انہوں نے حکومتی قیادت سے بھی درخواست کی کہ عوامی مشاورت، پارلیمانی بحث اور مقامی فلسطینی قیادت کی واضح رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔

6:05 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top