تکفیری مولوی نے اپنے ہی مسلک کے تکفیری مولوی مفتی عبد الرحیم کو بے نقاب کر دیا
شیعیت نیوز: ذرائع کے مطابق، مولانا انیس الرحمٰن قاسمی نے فیس بک پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے اپنے مسلک کے معروف عالم پر سخت تنقید کی ہے، جو ماضی میں جہاد، شریعت اور تکفیر کے نعروں سے شہرت رکھتے تھے مگر اب فلسفہ، میڈیا اور جدید مفاہمت کے راستے پر چل نکلے ہیں۔
انیس قاسمی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ “ہم نے جنہیں مجاہدِ دین سمجھا، وہ دراصل درباری مفکر نکلے۔ کل جو جہاد کے منبر پر بیٹھے تھے، آج فلسفے کے اسٹیج پر جلوہ گر ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: حماس نے کالعدم سپاہِ صحابہ کے سرغنہ دہشت گرد اورنگزیب فاروقی کے منہ پر کالک مل دی
مبصرین کے مطابق، قاسمی کی یہ پوسٹ دراصل انہی تکفیری بیانیوں کے اندرونی تصادم کو ظاہر کرتی ہے جو برسوں سے امتِ مسلمہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کرتے آئے ہیں۔
ایک وقت تھا جب یہ علماء “جہادِ افغانستان” کو فرضِ عین قرار دیتے تھے، لیکن اب وہی بیانیہ نرم اسلام اور فلسفیانہ تعبیرات میں بدل چکا ہے۔
قاسمی کی جانب سے اس کھلے عام تنقید کے بعد دیوبندی وهابی حلقوں میں سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، کچھ نے انہیں غدارِ مسلک کہا تو کچھ نے حق گو عالم قرار دیا۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب تکفیری فکر کے اندر بڑھتی ہوئی منافقت اور اقتداری مصلحتوں کا نتیجہ ہے۔
انیس الرحمٰن قاسمی کی پوسٹ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ تکفیری نظام کے اندر سے ہی اس کا زوال شروع ہو چکا ہے۔







