حکومت اور میڈیا ایک بار پھر ضیاءالحق دور کی شیعہ سرکوبی پالیسی دہرا رہے ہیں، علامہ جواد نقوی
شیعیت نیوز: ممتاز عالم دین علامہ سید جواد نقوی نے حالیہ حکومتی اور میڈیا بیانیے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک بار پھر ضیاءالحق دور کی شیعہ سرکوبی پالیسی دہرائی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی میں کوئی چور یا ڈکیت پکڑا جائے تو فوراً اس پر زینبیون کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، گویا اب جرم کی شناخت مذہب اور مسلک سے کی جا رہی ہے۔
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ “یہ وہی روش ہے جو ماضی میں بابوسر کے سانحے کے وقت اپنائی گئی تھی — شناختی کارڈ، قمیض، اور ماتم کے نشانات دیکھ کر لوگوں کو چنا جاتا تھا۔”
یہ بھی پڑھیں:
علامہ جواد نقوی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں دو تکفیری دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد حکومت اور میڈیا نے یکطرفہ پروپیگنڈا شروع کیا کہ یہ “زینبیون برگیڈ” کے لوگ تھے، حالانکہ کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے اس طرزِ عمل کو شیعہ مخالف نفسیاتی جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ تعصب، یہ منافقت، اور یہ دوغلا معیار ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔”
علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ جرم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، لیکن افسوس کہ ریاستی اداروں کے اندر تکفیری سوچ جڑ پکڑ چکی ہے، جو نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی بیانیہ جاری رہا تو فرقہ وارانہ نفرت دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے، جس کا نقصان صرف پاکستان اور اس کے عوام کو ہوگا۔







