طوفان الاقصی کی دوسری سالگرہ: مزاحمت کا دعویٔ فتح یا عالمی خاموشی کا پردہ فاش
شیعیت نیوز : فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے طوفان الاقصی کی دوسری سالگرہ کے موقع پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے غزہ کی حمایت میں کردار کو سراہا اور صہیونی دشمن کے خلاف جاری مزاحمت کو تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ دو سال میں سفاک ترین نسل کشی کا سامنا رہا، جو صہیونی دشمن نے فلسطینی عوام کے خلاف، عالمی برادری کی خاموشی اور لاپروائی کے دوران کی۔ اس دوران دشمن اور اس کے اتحادی اپنے اہداف میں ناکام رہے، جن میں مزاحمت کو ختم کرنا اور صہیونی قیدیوں کو زبردستی واپس لانا شامل تھا۔
مزاحمتی گروہوں نے کہا کہ طوفان الاقصی کی لازوال لڑائی، جو 7 اکتوبر 2023 سے جاری ہے، صہیونی سازشوں کے خلاف ایک فطری جواب تھی اور اس نے دشمن کے تمام جھوٹ اور پروپیگنڈے بے نقاب کیے۔ انہوں نے اس لڑائی میں فلسطینی عوام کی استقامت کو ایک مضبوط پتھر سے تشبیہ دی، جس پر دشمن کی تمام شیطانی سازشیں ٹوٹ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ: غزہ کی نسل کشی پر خاموشی کب تک؟
بیان میں زور دیا گیا کہ مزاحمت، غاصب صہیونی رجیم کے خلاف واحد راستہ ہے۔ کہا گیا کہ کوئی بھی فلسطینی عوام سے ان کا ہتھیار نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ ہتھیار جائز اور قانونی ہیں اور انہیں فلسطین کی آزادی اور مقدسات کے تحفظ تک نسل در نسل منتقل کیا جائے گا۔
مزاحمتی گروہوں نے عربی اور اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر دارالحکومت اور شہر میں سڑکوں پر نکلیں، فلسطین کی حمایت کریں، مزاحمت اور فلسطینی عوام کی مدد کے نعرے بلند کریں اور صہیونی جرائم و نسل کشی کی مذمت کریں۔
بیان میں یمن، لبنان، عراق اور ایران سمیت تمام حمایتی محاذوں کی تعریف کی گئی اور سید حسن نصراللہ، سید ہاشم صفی الدین، جنرل باقری، جنرل سلامی، جنرل رشید اور جنرل ایزدی سمیت تمام شہداء کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
بیان کے آخر میں طوفان الاقصی کے کمانڈروں خصوصاً اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار، اور محمد ضیف کے لیے دعا طلب کی گئی، اور تمام مزاحمتی گروہوں کے رہنماؤں کی قربانیوں کو تاریخ میں محفوظ رکھنے کا عہد دہرایا گیا۔







