نیویارک میں یہودی آرتھوڈکس کا نیتن یاہو کے خلاف تاریخی احتجاج
شیعیت نیوز : امریکہ میں سیکڑوں یہودی آرتھوڈکس نے نیویارک کی سڑکوں پر نکل کر اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور اس کی حکومت کو "یہودیوں کا دشمن نمبر ایک” قرار دیا۔
یہ احتجاج بدھ کی شب مین ہیٹن میں اسرائیلی قونصلیٹ کے سامنے منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا: "نیتن یاہو اور بن گویر یہودیوں کے دشمن ہیں” اور "صیہونیت مخالف ہونا یہود دشمنی نہیں ہے”۔ مظاہرین نے نعرے بھی لگائے جیسے "نیتن یاہو شرم کرو” اور "تو ہمارا نمائندہ نہیں”۔
یہ مظاہرہ "اسرائیل اگینسٹ جیوش” نامی ویب سائٹ کی جانب سے منظم کیا گیا تھا۔ مظاہرین اسکول بسوں کے ذریعے لائے گئے اور احتجاجی جلوس قونصلیٹ سے شروع ہو کر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر تک پہنچا۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کے حملوں میں امریکہ کا جدید دفاعی نظام ناکام
سماجی پلیٹ فارم جوئش وائس (Jewish Voice) کے مطابق، یہ مارچ نیتن یاہو کے آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے اعلان کے خلاف کیا گیا۔ نیویارک پولیس نے شرکاء کی تعداد "چند سو” بتائی ہے اور کہا ہے کہ یہ امریکہ میں حالیہ برسوں کا سب سے بڑا یہودیوں کا صیہونیت مخالف اجتماع تھا۔
یہودی مذہبی گروہوں، بالخصوص "ناٹوری کارٹا”، کی صیہونیت مخالفت کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسرائیل کا قیام دینی تعلیمات سے متصادم ہے۔ حالیہ مہینوں میں غزہ میں جاری جنگ اور نیتن یاہو حکومت کی پالیسیوں پر عالمی تنقید کے بعد امریکہ کے مختلف شہروں، بشمول بروکلین، شیکاگو اور لاس اینجلس، میں یہودیوں کے احتجاجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ جیسے ہی نیتن یاہو نیویارک پہنچے گا، شہر بھر میں مزید بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔







