علامہ سید ساجد علی نقوی کا عرب اسلامی سربراہی اجلاس پر سخت ردعمل
شیعیت نیوز : شیعہ علما کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے عرب اسلامک سربراہی اجلاس کے بعد اسرائیلی قابض فوج کی غزہ سٹی میں حالیہ تباہی اور فلسطینیوں کی آبائی سرزمینوں سے جبری بے دخلی پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اب سب کچھ عیاں ہوچکا ہے کہ اسرائیل فقط آلہ کار ہے جبکہ غزہ میں نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کا اصل مرتکب سامراج ہے۔ عرب اسلامک سربراہی کانفرنس کے اعلامیے کی سیاہی ابھی خشک بھی نہ ہوئی تھی کہ ظالم و قابض صہیونی ریاست نے غزہ پر قیامت ڈھا دی۔ افسوس کہ انسانیت سسک رہی ہے مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے "صمود فلوٹیلا” کو قیامت خیز اندھیروں میں روشنی کی کرن قرار دیا، ایسا دیا جو آج بھی درندگی کے ماحول میں انسانیت کے لیے ٹمٹما رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودیہ-پاکستان اتحاد کس ملک کے خلاف ہوگا؟؛ عالمی مبصرین کا سوال
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد توقع تھی کہ اسلامی سربراہی اجلاس میں غیر معمولی فیصلے ہوں گے تاکہ فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور امت کی عظمت رفتہ کی بحالی ہو۔ لیکن ایسا دکھائی نہیں دیتا۔ ایک بے ضرر اعلامیہ جاری کیا گیا اور اس کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ اسرائیل نے سامراجی پشت پناہی میں غزہ پر مظالم کی قیامت ڈھا دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر چیز واضح ہوگئی ہے، اسرائیل فقط آلہ کار ہے جبکہ اصل مجرم سامراج ہے جو ہزاروں انسانوں کے قتل کے باوجود اپنے بغل بچے کو مزید شہ دے رہا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے صمود فلوٹیلا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 31 اگست کو اسپین سے 44 ممالک کے انسانی حقوق نمائندگان کے ساتھ 70 کے قریب امدادی بحری جہازوں اور کشتیوں پر مشتمل قافلہ غزہ کے مظلوموں کے لیے روانہ ہوا ہے۔ یہ قافلہ قیامت خیز اندھیروں میں روشنی کی کرن اور ایسا دیا ہے جو درندگی کے ماحول میں بھی انسانیت کے لیے ٹمٹما رہا ہے۔ انہوں نے اس قافلے کی کامیابی کے لیے دعا کی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ امداد غزہ کے مظلوموں کے لیے کافی نہیں لیکن بارش کے پہلے قطرے کے طور پر مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔ کم از کم عالم اسلام اور انسانیت کے لیے ضروری ہے کہ اس امدادی قافلے کو منزل تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن تعاون اور سیکورٹی فراہم کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کی داد رسی ہو سکے۔







