پاکستان کی بقا آئین کی بالادستی میں ہے، جبر اور آمریت عارضی ہیں، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

03 ستمبر, 2025 19:03

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد میں پی ٹی آئی اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان 1971ء کے سانحے کے بعد بکھر گیا تھا، لیکن اس بکھرے وطن کو اکٹھا رکھنے کے لیے 1973ء کا آئین بنایا گیا۔ یہ آئین ایک ایسا “سوشل کنٹریکٹ” ہے جس نے صوبوں اور عوام کو یکجا کیا، ریاست کو وجود بخشا، اداروں کو نظام دیا اور قوم کو وحدت عطا کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جہاں قانون نہ ہو وہاں صرف طاقت کا اصول چلتا ہے اور معاشرہ جنگل کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ افسوس آج پاکستان پھر آئین شکنی اور لاقانونیت کی زد میں ہے، عوام کا مینڈیٹ پامال ہو رہا ہے، ادارے مفلوج ہیں اور عوام اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ نئے مذاکرات کی کوشش جاری ہے، گروسی

علامہ ناصر عباس نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سیلاب تباہی مچا رہا ہے، حکمران جشن مناتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بے حسی ہے بلکہ عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ آمریت اور جبر ہمیشہ عارضی ہوتے ہیں۔ اصل طاقت نہ گولی اور ٹینک میں ہے، نہ جبر اور دھونس میں بلکہ عوام کی تائید اور نرم قوت میں ہے، جو دلوں کو جیتتی ہے اور قوموں کو مضبوط کرتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی بقا اور عوام کے مستقبل کی ضمانت صرف آئین کی بالادستی میں ہے۔ اگر ہم نے آئین سے روگردانی جاری رکھی تو تاریخ ہمیں بھی انہی ظالموں کی صف میں کھڑا کر دے گی جن کا انجام عبرتناک ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ظلم کبھی قائم نہیں رہتا اور مظلوم آخرکار کامیاب ہوتے ہیں۔ ان شاء اللہ پاکستان کے عوام اور محروم طبقات ہی سرخرو ہوں گے۔

2:53 شام اپریل 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔