پیغمبر اکرمؐ کی حیات انسانیت کے ہر پہلو کے لیے نمونہ عمل ہے، آیت اللہ اعرافی
سربراہ حوزہ علمیہ ایران کا یومِ طبیب کی تقریب سے خطاب، ڈاکٹروں کی قربانیوں کو خراج تحسین

شیعیت نیوز : سربراہ حوزہ علمیہ ایران، آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کی معراج اور اخلاق، علم و استقامت کے جامع نمونہ عمل ہیں جن کی حیاتِ طیبہ میں ہمیں فردی، اجتماعی اور تمدنی زندگی کے ہر پہلو کے لیے ہدایت اور رہنمائی ملتی ہے۔
انہوں نے یہ بات حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے شبستان نجمہ خاتون میں "یومِ طبیب” کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا اہتمام یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور نرسنگ تنظیم کی جانب سے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہالینڈ کے وزیر خارجہ کا استعفیٰ، اسرائیل پر پابندیوں کے معاملے پر اختلافات
آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ رسولِ خداؐ نے اپنی شخصیت کے تین بڑے پہلو دنیا کے سامنے رکھے: علم و معرفت، راہِ خدا میں استقامت اور اخلاق۔ وہ لوگوں کے درمیان دائرہ وار بیٹھتے، فقرا کے ساتھ کھانا کھاتے، کسی کو حقیر نہیں سمجھتے اور ہمیشہ خوش اخلاق و گشادہ رو رہتے تھے۔ آپؐ کبھی ذاتی انتقام نہیں لیتے تھے، بلکہ صرف خدا کے دین کے لیے خشمگین ہوتے تھے۔
امام جمعہ قم نے کہا کہ نبی اکرمؐ قناعت، سادہ زندگی اور زہد کے پیکر تھے۔ وہ تحائف قبول کرتے، اہل خانہ کو عزت دیتے اور خواتین کی عظمت کے قائل تھے۔ ان کی مجلس وقار اور حیاء کا آئینہ دار تھی اور وہ ہر شخص کو یکساں اہمیت دیتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی معاشرہ اسی وقت عزت و عظمت حاصل کر سکتا ہے جب علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پیش قدم رہے۔ خاص طور پر طب و صحت کا شعبہ جو براہِ راست انسانی زندگی سے تعلق رکھتا ہے، قومی اقتدار کے بنیادی ستونوں میں سے ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے کرونا جیسی عالمی وبا اور دیگر بحرانوں میں ڈاکٹروں اور طبی عملے کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے طبی ماہرین نے ملک کو وقار بخشا ہے اور یہ خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور ذمہ دار اداروں کو چاہیے کہ نظامِ صحت اور میڈیکل کے شعبے کو مزید تقویت دیں تاکہ ایران علمی و اخلاقی میدان میں دنیا کے لیے ایک نمونہ بن سکے۔