ایران سفارت کاری ترک نہیں کرے گا، مذاکرات تبھی مفید جب مسئلے حل کرنے کی نیت ہو: علی لاریجانی
قومی سلامتی کونسل کے سربراہ کا کہنا ہے کہ مزاحمتی گروپس خطے کی سلامتی کا حقیقی سرمایہ ہیں

شیعیت نیوز : ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران کبھی بھی سفارت کاری کو ترک نہیں کرے گا لیکن مذاکرات تبھی مفید ہوں گے جب مدمقابل واقعی مسئلے حل کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ایران کی قیادت ہمیشہ کہتی رہی ہے کہ مذاکرات کا پرچم ہمیشہ ہاتھ میں رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دشمن صرف دباؤ ڈالنا چاہے یا ایران کو تسلیم کروانے کی کوشش کرے تو اس سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایرانی قوم مضبوط اور بہادر ہے اور کوئی بھی جنگ یا دباؤ اسے مجبور نہیں کر سکتا۔ حقیقی مذاکرات کے لیے ضروری ہے کہ مخالف ایران کی طاقت اور عزم کو سمجھے اور اسی بنیاد پر بات کرے۔
یہ بھی پڑھیں : مجالسِ امام حسینؑ میں شرکت پر چھ طلبہ دیوبندی مدرسے سے خارج
لاریجانی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کی خارجہ پالیسی کے مطابق حزبالله لبنان، حماس فلسطین اور دیگر مزاحمتی گروپس اب بھی فعال اور مضبوط ہیں اور ایران انہیں ایک حقیقی سرمایہ کے طور پر دیکھتا ہے۔
لاریجانی نے وضاحت کی کہ حزبالله لبنان کا قیام اسرائیل کے لبنان پر حملے کے ردعمل میں ہوا۔ یہ گروپ ایران کے زیر قیادت وجود میں نہیں آیا بلکہ لبنانی عوام اور نوجوانوں کی مزاحمت اور عزم کا نتیجہ ہے۔ ایران نے صرف مدد فراہم کی، لیکن کسی قسم کا کنٹرول یا حکم نہیں دیا۔ یہی اصول حماس اور دیگر مزاحمتی گروپس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے مزاحمتی گروپس پر دباؤ ہے تاکہ ان کو کمزور کیا جاسکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر دباؤ اور ہر حملے کے بعد یہ گروپس مزید مضبوط اور منظم ہوجاتے ہیں۔ ہر جارحیت اسے مزید مستحکم اور جان دار بناتی ہے۔
قومی سلامتی کونسل کے سربراہ نے مزید کہا کہ حماس کی مثال اس بات کی غماز ہے کہ اسرائیل اور اس کے اتحادی غزہ میں حملے کر چکے ہیں، لوگوں کو شہید اور بھوکا رکھا، لیکن حماس اپنی پوزیشن پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مزاحمت کا وجود دشمن کی جارحیت سے کمزور نہیں ہوتا بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔
لاریجانی نے خطے میں ایران کے کردار پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ایران کا رویہ ہمیشہ برادرانہ اور تعاون پر مبنی رہا ہے۔ ایران کسی بھی گروپ یا ملک پر تسلط کے خواہاں نہیں، بلکہ خطے میں خودمختار اور مضبوط ریاستوں کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم مزاحمت کی حمایت جاری رکھیں گے کیونکہ یہ صرف ایران کی نہیں بلکہ پورے خطے کی سلامتی اور عزت کی ضمانت ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی طاقتیں اگر مزاحمتی گروپس کو کمزور سمجھیں یا دباؤ ڈالیں تو یہ ایک غلط فہمی ہے۔ مزاحمتی گروپس اپنے نوجوانوں کی ہمت اور عوامی حمایت سے ہر جارحیت کے بعد مضبوط تر ہو جاتے ہیں۔ ایران کے نزدیک یہ گروپس خطے میں ایک اہم حفاظتی ڈھانچہ ہیں، اور ان کے بغیر علاقائی سلامتی اور استحکام ممکن نہیں۔
لاریجانی نے کہا کہ ایران کا اصول ہے کہ ہر مزاحمتی گروپ کو خود اپنی رائے اور فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ ایران انہیں صرف ضروری مدد فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنے عوام کی حفاظت اور خطے کی سلامتی کو یقینی بناسکیں۔