حماس کے خلاف کاروائیوں میں عرب ممالک بھی شریک ہیں، عبدالملک الحوثی
اسرائیل کے حملوں میں بچوں کی ہلاکت اور یمن کی بحیرہ احمر میں کارروائیاں

شیعیت نیوز : یمنی تنظیم انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ میں بدترین مظالم ڈھائے ہیں، جن میں شدید بمباری، بے گھر لوگوں کے خیموں پر حملے اور غذائی محاصرہ شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف رواں ہفتے میں صہیونی حملوں اور قحطی کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ڈھائی لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت کے باعث موت کے خطرے سے دوچار ہیں، جو ایک انسانی المیہ ہے۔ صہیونی وحشیوں نے اس فلسطینی بچی آمنہ المفتی کو بھی شہید کردیا جو پانی کا گیلن اٹھائے ہوئے صہیونی میزائل کا نشانہ بنی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل عرب اردن کو تقسیم کر کے بیت المقدس کو مکمل طور پر الگ کرنے اور فلسطین کے وجود کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ صہیونی افواج مسجد الاقصی کی حرمت پامال کر رہی ہیں اور اس کے انہدام کی سازش کرکے وہاں ہیکل کی تعمیر کرنا چاہتی ہیں۔ اسرائیل اپنے عزائم کو مغربی دنیا کی حمایت سے آگے بڑھا رہا ہے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے خواب کو پورا کرنے کی کوشش میں ہے۔
عبدالملک الحوثی نے سعودی عرب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اٹلی میں پکڑا گیا سعودی جہاز اسرائیل کے لیے اسلحہ لے جا رہا تھا۔ انہوں نے مصر کے تل ابیب کے ساتھ گیس معاہدے کو بھی فلسطین کے خلاف کھلی حمایت قرار دیا اور کہا کہ بدقسمتی سے عرب ممالک ایران جیسے فلسطین کے حامی ملک کو دشمن سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیستان و بلوچستان، دہشت گردوں کا حملہ؛ پانچ پولیس اہلکار شہید
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب سمیت بعض عرب حکومتیں اور حتی کہ فلسطینی اتھارٹی بھی حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں شریک ہیں تاکہ اسرائیلی منصوبے کو تقویت ملے۔
عبدالملک الحوثی نے بتایا کہ یمنی مسلح افواج نے اس ہفتے بحیرہ احمر میں دو اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنایا۔ صرف ماہ صفر میں یمن نے 42 ہائپر سونک میزائل، ڈرون اور جدید ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا۔ قن حملوں کی وجہ سے اسرائیلی بندرگاہ ایلات مفلوج ہوچکی ہے اور محاصرہ باب المندب اور خلیج عدن تک پھیل گیا ہے۔