امریکی وزارتِ خارجہ نے دباؤ میں آکر غزہ کے زخمی بچوں کے ویزے معطل کر دیے
انتہا پسند لورا لومر کی مہم کے بعد انسانی اقدار کے خلاف فیصلہ — ہزاروں بچوں کی زندگیاں خطرے میں

شیعیت نیوز : امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے امریکی نسل پرستی کی مہم کے دباؤ میں آ کر غزہ کے زخمی بچوں کے لیے ویزے معطل کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق امریکی انتہا پسند خاتون لورا لومر کی جانب سے سوشل میڈیا پر چلائی گئی مہم میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ اپنے ہسپتالوں میں شدید زخمی فلسطینی بچوں کا علاج نہ کرے۔ اس مطالبے کو وزارتِ خارجہ نے قبول کرتے ہوئے اعلان کیا کہ غزہ کے تمام شہریوں، بشمول زخمی بچوں، کے لیے جاری کردہ ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
لومر نے اپنی پوسٹوں میں نہ صرف وزارتِ خارجہ اور سینیٹر مارکو روبیو کو مخاطب کیا بلکہ معصوم فلسطینی بچوں کو "حماس” قرار دے کر ان کے علاج کی مخالفت کی۔ یاد رہے کہ یہی لورا لومر وہ شخصیت ہے جسے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ عرصہ قبل "ایک اچھا محب وطن” قرار دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں قدرتی آفات پر علامہ ساجد نقوی کا اظہار افسوس
زخمی فلسطینی بچوں کو ایک امریکی غیر منافع بخش تنظیم ہیل فلسطین (HEAL Palestine) کے تعاون سے امریکہ لایا جاتا تھا تاکہ ان کا فوری اور ضروری علاج ممکن ہو سکے۔
تنظیم کے بانی اسٹیو سوسبی نے اس فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"یہ افسوسناک ہے کہ ہزاروں زخمی اور بیمار بچوں کو علاج سے محروم کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام تمام انسانی اور امریکی اقدار کے منافی ہے اور اس کے نتیجے میں بے شمار معصوم بچوں کی اموات ہوں گی۔”
واضح رہے کہ امریکہ کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کے خلاف صہیونی نسل کُشی کے آغاز سے ہی واشنگٹن اسرائیل کو فوجی، مالی اور سفارتی میدان میں بھرپور تعاون فراہم کر رہا ہے۔