خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں قدرتی آفات پر علامہ ساجد نقوی کا اظہار افسوس
شیعیت نیوز : علامہ سید ساجد علی نقوی نے خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، سیلابی ریلوں اور آسمانی بجلی کے گرنے کے واقعات میں تقریباً 300 افراد جاں بحق اور سیکڑوں لاپتہ ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے پی کے، کشمیر اور جی بی میں ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات اٹھائے جانے چاہیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ناگہانی آفت نے بڑے پیمانے پر متاثرہ علاقوں میں تباہی مچا دی، کئی گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے، مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے، رابطہ پل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں، باجوڑ میں امداد لے جانے والا ہیلی کاپٹر کریش کر گیا۔ موجودہ ہنگامی و ناگہانی صورتحال کے پیش نظر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی رفتار کو بڑھاتے ہوئے متعلقہ محکموں کو چاہیے کہ وہ امدادی سرگرمیوں کو تیز کریں، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کریں اور متاثرہ افراد کی مدد اور بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں۔
یہ بھی پڑھیں : بین الاقوامی فوجداری عدالت میں دو اسرائیلی وزیروں کے خلاف گرفتاری کے احکام متوقع
علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ قدرتی و ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں اور ایسا میکنزم مرتب کیا جائے جس سے مستقبل میں ایسی ناگہانی آفات و مشکلات سے بچا جا سکے۔
آخر میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور کشمیر میں قدرتی و ناگہانی آفات کے نتیجہ میں جاں بحق شہریوں کے بلندی درجات کے لیے دعا اور پسماندگان و لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔







