اقوام متحدہ میں ایران کا دوٹوک مؤقف: اسرائیل عالمی امن کے لیے خطرہ ہے
شیعیت نیوز: ایران کے معاون وزیر برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریبآبادی نے کہا ہے کہ ایران، روس اور چین عالمی معاملات، خاص طور پر ایران سے متعلق مسائل پر ہمیشہ باہمی مشاورت اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نیویارک میں دو روزہ قیام کے دوران ایرانی وفد نے دو بار سلامتی کونسل سے خطاب کیا، جس میں بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات اور فلسطین کی صورتحال پر ایران کا تفصیلی اور دوٹوک مؤقف پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حزب اللہ نے غرب اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کو استعمار کی بدترین شکل قرار دیا
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری جان لے کہ ہم کس طرح کے قانون شکن اور خطرناک نظام سے نبرد آزما ہیں، جو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ اسرائیل غزہ میں بچوں کے قتل عام کے لیے بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں ایران نے اپنا مؤقف پوری وضاحت سے دنیا کے سامنے رکھا۔
غریبآبادی نے بتایا کہ ایرانی وفد نے نیویارک میں 110 سے زائد ممالک کے نمائندوں سے ملاقات کیں، جن میں اسرائیلی و امریکی جارحیت اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے ایران کے تعلقات پر گفتگو کی گئی۔
انہوں نے چین اور روس کے نمائندوں کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اتفاق کیا کہ اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو استعمال کرکے نہ صرف ایران کی مظلومیت اور قانونی حقائق دنیا کے سامنے لائیں گے، بلکہ ان طاقتوں کو بھی بے نقاب کیا جائے گا جو خود حملہ آور ہو کر مظلوم بننے کی کوشش کرتی ہیں۔







