کالعدم لشکر جھنگوی مولوی کے ہاتھوں مدرسے میں بچے کی موت کی داستان، کلاس فیلو کی زبانی

23 جولائی, 2025 16:35

شیعیت نیوز : مدرسے میں استاد کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے بچے کے کلاس فیلو نے پشتو زبان میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے لرزہ خیز تفصیلات بیان کی ہیں۔ اُس بچے نے بتایا کہ مدرسے کے مہتمم صاحب نے پہلے چائے پی، پھر چائے ختم کرنے کے بعد اُٹھ کر اُس طالبعلم کو مارنا شروع کیا۔ وہ مسلسل تشدد کرتے رہے، یہاں تک کہ وہ خود تھک گئے۔

انٹرویو کے مطابق مہتمم نے بچے کو وحشیانہ طریقے سے پیٹنے کے بعد قاری صاحب بخت امین کو بلایا اور کہا: "اب تم اسے مارو”۔ قاری بخت امین نے بھی اس پر تشدد جاری رکھا، یہاں تک کہ کلاس کے طلبہ نماز کے لیے چلے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکر جھنگوی کے مولوی کی دس سالہ بچے سے 100 سے زائد بار زیادتی

نماز کے وقت تک بچہ مکمل طور پر نڈھال ہو چکا تھا۔ نماز کے بعد جب بچے واپس آئے تو مہتمم صاحب دوبارہ مدرسے میں آئے، اور ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی فٹبال میچ میں دوڑ رہے ہوں۔ انہوں نے دوڑتے ہوئے ایک زور دار لات بچے کی پسلیوں پر ماری۔ اس ضرب کے بعد بچہ ساکت ہو گیا، پھر ایک اور لات ماری اور ساتھ گالیاں دیتے رہے۔ اس کے بعد بچہ زمین پر گر گیا۔

کلاس فیلو نے مزید بتایا کہ مہتمم کے چلے جانے کے بعد انہوں نے اپنے زخمی ساتھی کو ملائی کھانے کے لیے دی، مگر وہ صرف ہاتھ منہ تک لے گیا، کچھ نہ کھا سکا، اور پھر گر پڑا۔ اس کا منہ کھل گیا، آنکھیں بند ہونے لگیں۔

مغرب کے وقت مہتمم صاحب دوبارہ آئے، اور ایک اور لات مارتے ہوئے چیخے: "اٹھ، بہانے مت بنا!” لیکن وہ بچہ پھر کبھی نہ اٹھا۔ (یہ بیان کرتے ہوئے وہ معصوم بچہ خود بھی زاروقطار رو پڑا۔)

11:31 شام اپریل 14, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔