کالعدم لشکر جھنگوی کے مولوی کی دس سالہ بچے سے 100 سے زائد بار زیادتی
شیعیت نیوز : مانسہرہ کے مدرسہ تعلیم القرآن میں دس سالہ بچے سے سو سے زائد مرتبہ زیادتی کا ملزم قاری شمس الدین تین دن تک مفرور رہا۔ پولیس اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارتی رہی لیکن اسے چھپانے والوں نے اسے پولیس کی پہنچ سے دور رکھا، بالآخر جے یو آئی کے مفتی کفایت اللہ اور مانسہرہ کے سابق رکن اسمبلی اور جماعت اسلامی کے رہنما ابرار تنولی نے پولیس سے مذاکرات کرنے کے بعد قاری شمس الدین کو مشروط طور پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے پولیس کے سامنے مندرجہ ذیل شرائط رکھیں:
1۔ قاری شمس الدین پر کسی قسم کا تشدد یا سختی نہیں کی جائے گی
2۔ قاری شمس الدین کو ملاقاتیوں سے ملنے کی اجازت ہو گی
3۔ قاری شمس الدین کے خلاف کسی قسم کا چالان جمع کروانے سے قبل جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں سے مشاورت کی جائے گی
یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکر جھنگوی کے مولوی کی معصوم بچے کے ساتھ کئی ماہ تک زیادتی
شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے دھمکی دی کہ وہ پورے علاقے کے مدارس کے بچوں کو تھانے کے سامنے دھرنا دینے کے لیے لے آئیں گے۔
اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ لواطـت جیسے سنگین ترین جرم کو مذہبی جماعتوں کی قیادت کی مکمل طور پر پشت پناہی حاصل ہے۔ جس طرح مفتی کفایت اللہ اور ابرار تنولی نے پولیس سے اپنی شرائط منوائیں، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مولویت ایک مافیا کا روپ دھار چکی ہے۔ جس طرح مافیا کے لوگ ایک دوسرے کو پروٹیکشن دیتے ہیں، اسی طرح بچوں سے زیادتی کرنے والے یہ جنسی درندے ایک دوسرے کو تحفظ دیتے ہیں۔







