اہم ترین خبریںمقبوضہ فلسطین

غزہ میں اسرائیل کی خستہ حال فوجی حکمت عملی اور صہیونی نقصانات میں اضافہ

خان یونس و شجاعیہ میں جدید مزاحمتی حملے، پرانے صہیونی ہتھیار ناکام

شیعیت نیوز : جب سے اسرائیلی فوج نے غزہ میں "Chariots of Gideon” آپریشن کا آغاز کیا ہے، اس وقت سے صہیونی فوج کو ناقابلِ تصور حد تک جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس دوران خان یونس اور شجاعیہ کے علاقوں میں فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے کئی حملے کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں میں خاص طور پر وہ حملہ قابلِ ذکر ہے جس میں چند دن قبل خان یونس میں ایک بکتر بند گاڑی پر حملے کے نتیجے میں 16 صہیونی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ بڑی جرات اور مہارت سے انجام پایا اور لگتا ہے کہ یہ سلسلہ طویل مدت تک جاری رہے گا۔ 8 مارچ کو غزہ پر دوبارہ حملے سے قبل ایسے حملے دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران غزہ کی جھڑپوں کے منظرنامے میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ اسرائیلی حکومت کی شدید سنسر شپ کے باوجود میدانِ جنگ میں کئی اہم عسکری اور حربی واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے صہیونی فوج کی صفوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان واقعات کے نتیجے میں بہت سے اسرائیلی فوجی جنگ جاری رکھنے پر شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور بعض نے تو ریزرو فورس میں دوبارہ شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : صیہونیت مخالف یہودی رہنما کی ایرانی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات

جدید دھماکہ خیز مواد تک رسائی

فلسطینی مزاحمتی گروہوں، خاص طور پر القسام اور القدس بریگیڈز نے حالیہ دنوں میں خود ساختہ بموں کی نئی اقسام استعمال کرنا شروع کی ہیں۔ ان میں سے کچھ بم جیسے "شواظ” اور "ثاقب” زمین میں نصب کیے جاتے ہیں تاکہ دشمن کے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کو نشانہ بنایا جا سکے، جبکہ کچھ بم anti-personnel نوعیت کے ہوتے ہیں، جو ان فوجیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں جو گاڑیوں یا ٹینکوں سے باہر ہوتے ہیں۔

ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمتی گروہوں نے بڑی مقدار میں ایسے دھماکہ خیز مواد حاصل کرلیے ہیں جن میں زبردست تباہی کی صلاحیت ہے اور جو اس سے پہلے ان کے پاس موجود نہیں تھے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مواد، جو "سی فور (C4)” جیسے دھماکہ خیز مواد پر مشتمل ہے، ان خفیہ کارروائیوں کے لیے مخصوص ذخائر سے حاصل کیا گیا ہے جو صہیونی جاسوسوں اور ایجنٹوں کے ذریعے تخریب کاری کے لیے بھیجے گئے تھے۔ فلسطینی مقاومت نے ان پوشیدہ جگہوں پر موجود مواد پر قبضہ کرلیا اور انہی سے نئی نسل کے دھماکہ خیز آلات تیار کیے۔

اس دھماکہ خیز مواد کا بڑا حصہ anti-armor بموں کی تیاری میں استعمال کیا جا رہا ہے، جن میں دشمن کی بکتر بند گاڑیوں اور جنگی سازوسامان میں گہرائی تک نفوذ کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔

کثیر الجہتی کارروائی کے لیے مزاحمتی قوت کی حربی صلاحیتوں میں اضافہ

فلسطینی مزاحمتی گروہوں، بالخصوص حماس اور دیگر گروہوں کی جنگی اور عسکری صلاحیتوں میں خاص طور پر ترکیبی حملوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، اور وہ اب مختلف علاقوں میں اس قسم کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

ایسی کارروائیاں عام طور پر بڑے پیمانے پر نصب دھماکہ خیز مواد کے زوردار دھماکے سے شروع ہوتی ہیں، جس کے بعد درمیانے اور ہلکے ہتھیاروں سے براہ راست فائرنگ کا مرحلہ آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں شجاعیہ کے علاقے میں ہونے والا حملہ اسی طرز کی ایک مثال ہے۔

ان مرکب حملوں کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دشمن فوجیوں کو نہ تو سانس لینے کا موقع دیتے ہیں اور نہ ہی مناسب ردعمل دکھانے کی فرصت ملتی ہے، جس کی وجہ سے وہ اکثر جنگی لحاظ سے غلط فیصلے کرتے ہیں، اور نتیجتاً ان کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

اسرائیلی جنگی حربوں کا تکرار

تیسرا اہم حربی عنصر، جو پہلے بیان کیے گئے نکات سے کم اہم نہیں، اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگی منصوبوں کا تکرار اور پرانے طریقوں کا استعمال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروہوں کو اب اسرائیلی فوج کے حملوں کے نقشے، ان کی نقل و حرکت اور ان کے استعمال شدہ ہتھیاروں کے بارے میں پہلے سے معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ مختلف تصویری شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ صہیونی فوجی طویل عرصے تک مزاحمتی فورسز کی نگرانی میں ہوتے ہیں۔

مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی کمانڈرز پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ جنگی جوش و جذبہ کھو بیٹھے ہیں اور نئے جنگی منصوبے بنانے میں مکمل ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف صہیونی افسروں اور فوجیوں کے حوصلے کی کمی تک محدود نہیں بلکہ اس خطرناک صورتِ حال میں صہیونی فوجی افسران کی فیصلے کی قوت شدید متاثر ہوئی ہے۔

ان سب پر مستزاد بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیوں کے درمیان مایوسی اور ذہنی دباؤ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے، خاص طور پر وہ فوجی جو غزہ کے محاذ پر تعینات ہیں۔

صہیونی فوج کا فرسودہ اور پرانے ہتھیاروں پر انحصار

صہیونی فورسز کی ہلاکتوں میں اضافے کا چوتھا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ کارروائیوں میں ایسے فوجی سازوسامان استعمال کیے ہیں جو پہلے ہی برسوں قبل ناکارہ یا متروک قرار دیے جا چکے تھے۔ اس اقدام نے مزاحمتی حملوں کے اثرات کو مزید شدید بنا دیا، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

حالیہ مہینوں میں صہیونی فوج تقریباً مکمل طور پر پرانے اور خستہ حال ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں پر انحصار کر رہی ہے جو بارہا مزاحمتی حملوں میں مکمل طور پر تباہ یا جل چکے ہیں۔ یہ مسئلہ دراصل صہیونی فوج میں جدید بکتر بند سازوسامان کی کمی کا نتیجہ ہے، جس کا اعتراف خود جنرل ایال زامیر نے کیا ہے۔

ان پرانے آلات میں "بوما”، "شیزاریت”، "ایم-133” بکتر بند گاڑیاں اور "مرکاوا” ٹینکوں کی تیسری نسل شامل ہے، جنہیں ماضی میں ناکارہ قرار دے کر متروک قرار دیا گیا تھا، لیکن اب دوبارہ میدانِ جنگ میں لا کر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح اسرائیلی فوج میں "ڈی 9” بلڈوزروں کی بھی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ کم محفوظ اور کمزور گاڑیوں اور ٹینکوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ یہی بات مزاحمتی گروہوں کے لیے ان پر حملے کو نہایت آسان بنا دیتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ بندی کے لیے مذاکرات چاہے جتنے بھی پیچیدہ ہوں، جنگ کے اخراجات میں مسلسل اضافے نے صہیونی فوج اور اس کی داخلی رائے عامہ پر گہرے نفسیاتی اثرات ڈالے ہیں، جس کی وجہ سے اس جنگ میں صہیونی اہداف کی سطح کم ہو گئی ہے۔

یہ سب کچھ بالآخر صہیونیوں کی دائیں بازو کی انتہا پسند کابینہ کے سقوط کا سبب بن سکتا ہے، خاص طور پر اس عبرتناک شکست کے بعد جو اسرائیل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم میں اٹھانی پڑی۔

متعلقہ مضامین

Back to top button