سندھ میں کالعدم لشکر جھنگوی کے دہشتگردوں کا سبیلِ امام حسینؑ پر حملہ، مولانا فرمان علی شدید زخمی

04 جولائی, 2025 15:44

شیعیت نیوز: ایامِ محرم الحرام میں جب اہلِ ایمان "لبیک یا حسینؑ” کی صدائیں بلند کر رہے ہیں، سندھ کے ضلع کشمور کی تحصیل کندھ کوٹ کے گاؤں جان محمد بھٹو میں سفاک یزیدی عناصر نے حسینی عزاداری پر حملہ کر کے اپنی تکفیری سوچ کا گھناؤنا چہرہ ایک بار پھر بے نقاب کر دیا۔

کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے مسلح دہشتگردوں نے امام حسینؑ کی سبیل پر حملہ کیا، جس میں معروف مذہبی شخصیت، مدرسہ ارشاد الثقلین کندھ کوٹ کے مولانا فرمان علی عسکری اور ان کے بھائی سمیت متعدد عزادار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: مظفر گڑھ کے علاقے شہر سلطان سے کالعدم لشکر جھنگوی کا ٹک ٹاکر شیعہ تکفیر پر گرفتار، ایف آئی آر درج

یہ حملہ محض افراد پر نہیں بلکہ حسینیت پر حملہ ہے۔ یزیدیت کی باقیات آج بھی امام حسینؑ کے پیغامِ حق سے خائف ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ حسینی کبھی یزیدیوں سے مرعوب نہیں ہوئے۔ کل یزید تخت پر تھا اور حسینؑ خیموں میں، مگر آج دنیا حسینؑ کے نام پر ماتم کرتی ہے، یزید کو کوئی یاد نہیں کرتا، سوائے نفرت کے۔

ہم اس بہیمانہ اور بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ایس ایس پی کشمور سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ان نام نہاد دینی دہشتگردوں کو فی الفور گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔ اگر ان عناصر کو لگام نہ دی گئی تو کل کو یہ فتنہ مزید پھیلے گا۔

مولانا فرمان علی عسکری، جو کہ اتحادِ امت، عزاداری اور تعلیمِ قرآن کے داعی ہیں، ان پر حملہ صرف ان کی ذات پر نہیں بلکہ ملتِ جعفریہ کے وقار اور بقاء پر حملہ ہے۔

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ایامِ حسینؑ ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ ہم متحد ہو کر یزیدیت کی ہر شکل کے خلاف صف آرا ہوں۔ حسینیت فقط اشک نہیں، شعور بھی ہے۔

1:08 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔