ایران نے یورپی یونین کی جوہری مذاکرات کی اپیل مسترد کر دی، ایرانی وزیر خارجہ کا سخت ردعمل

03 جولائی, 2025 13:52

شیعیت نیوز : ایران نے یورپی یونین کی اس اپیل کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے فوری مذاکرات میں شامل ہو جائے۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کسی بھی ایسے مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا، جن کا مقصد اس کے قانونی اور پرامن جوہری حق کو ختم کرنا ہو۔

یہ بیان یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے دیے گئے اس مطالبے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ایران سے فوری طور پر جوہری مذاکرات کی اپیل کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیل فلسطین معاہدہ طے پانے پر سعودی اسرائیل تعلقات بحالی کا امکان: سعودی ذرائع

عباس عراقچی نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ کایا کالاس کا مؤقف جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کی صریح خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ معاہدہ ہر رکن ریاست کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا حق دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین کی یہ پالیسی ایران کے قانونی حقوق کی توہین اور یک طرفہ دباؤ کی کوشش ہے۔ عراقچی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات بے معنی ہو چکے ہیں کیونکہ امریکہ 2018 میں اس معاہدے سے نکل کر ان بنیادوں کو خود تباہ کر چکا ہے جن پر مذاکرات کھڑے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ یورپی ممالک کا تخریبی رویہ اور اسرائیلی جارحیت کی خاموش حمایت نہ صرف سفارتی کوششوں کو تباہ کرے گی بلکہ خطے میں کشیدگی کو بھی مزید بڑھا دے گی۔

انہوں نے کایا کالاس سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے خلاف یورپی خاموشی کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکہ کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی کی کھلے الفاظ میں مذمت کرے۔

واضح رہے کہ ایران، امریکی پابندیوں اور معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد اپنے جوہری پروگرام کو تیزی سے آگے بڑھا رہا ہے، تاہم اس کا مؤقف مسلسل یہی رہا ہے کہ اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن، توانائی پیداوار اور طبی تحقیق کے لیے ہیں۔

4:31 صبح اپریل 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔