باطنی جہاد، عاشور کا اصل پیغام ہے: علامہ سید شہنشاہ نقوی
شیعیت نیوز : خطیب پاکستان، علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کا نشتر پارک میں مرکزی عشرہ محرم الحرام کی پہلی مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ باطنی نفس کے ساتھ جہاد، بیرونی دشمن سے جہاد سے بھی برتر اور دشوار تر ہے۔ یہ جہاد، نفسانی خواہشات سے لڑنے، غصے، حرصِ دنیا اور اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسان کی خودسازی اور اپنے نفس سے جہاد، بیرونی دشمن سے جہاد کی بنیاد ہے، اور چونکہ اس کا پھل یا نتیجہ بہت زیادہ ہے، اس لیے اس کی راہ بھی عجیب طور پر کٹھن اور طاقت آزمائی سے بھرپور ہے۔ جو شخص مختلف میدانوں میں اپنے نفس پر غالب آجائے اور اسے رام کرلے، وہ کامیاب انسان ہے۔ امام علیؑ کے بقول، ایسا شخص شیطان کو زمین پر گرا کر آگ میں جھونک دیتا ہے۔
علامہ شہنشاہ نقوی نے مزید کہا کہ کربلا میں عاشور کے دن وہ لوگ موجود تھے جو نفس سے جہاد کرنے والے تھے۔ ان کی نیتوں میں کوئی دنیاوی لالچ، مال و دولت، مقام، عیش و آرام، زندگی یا کسی اور چیز کی طلب نہیں تھی، لہٰذا وہ کامیاب ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں : اگر آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر ہٹائی گئی تو ہم احتجاج کریں گے: مولانا کلب جواد نقوی
انہوں نے عمرو بن قرظہ انصاری کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ امام حسینؑ کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے، جبکہ ان کا بھائی علی بن قرظہ، عمر سعد کی فوج میں تھا۔ عمرو بن قرظہ نے اپنی درونی خواہشات کو رام کرلیا تھا، اس لیے وہ بھائی کی محبت کی وجہ سے دشمن کے سامنے کھڑے ہونے میں کمزور نہیں پڑے۔ انہوں نے امام کا بھرپور ساتھ دیا اور آخر وقت تک امام حسینؑ کے ساتھ کھڑے رہے اور اسی راہ میں شہید کر دیئے گئے۔
خطیب پاکستان نے کہا کہ عاشور کا اصل درس یہی ہے کہ صرف وہی لوگ دشمن کے مقابل کھڑے ہو سکتے ہیں، جو اپنے نفس پر قابو پالیں، جو قدرت، شہرت اور ریاست کی محبت نہ رکھتے ہوں۔ نفس کا جہاد ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد ہے۔







