خودسازی اور اپنے نفس سے جہاد، بیرونی دشمن سے جہاد کی بنیاد ہے، علامہ شہنشاہ نقوی
عاشور کا درس یہ ہے کہ صرف وہ لوگ دشمن کے مقابل کھڑے ہوسکتے ہیں، جو اپنے نفس پر قابو پالیں، جو قدرت، شہرت اور ریاست کی محبت نہ رکھتے ہوں

شیعیت نیوز : علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باطنی نفس کے ساتھ جہاد، بیرونی دشمن سے جہاد سے بھی برتر اور دشوار تر ہے۔
یہ جہاد نفسانی خواہشات سے لڑنے، غصے، حرصِ دنیا اور اپنی خواہشات کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا نام ہے۔
انسان کی خودسازی اور اپنے نفس سے جہاد، بیرونی دشمن سے جہاد کی بنیاد ہے اور چونکہ اس کا پھل یا نتیجہ بہت زیادہ ہے۔
اس لیے اس کی راہ بھی عجیب طور پر کٹھن اور طاقت آزمائی سے بھرپور ہے۔
جو شخص مختلف میدانوں میں اپنے نفس پر غالب آجائے اور اسے رام کرلے، وہ کامیاب انسان ہے اور امام علیؑ کے بقول، ایسا شخص شیطان کو زمین پر گرا کر آگ میں جھونک دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علماء و ذاکرین جذبہ محبت و وحدت کو فروغ دیں، علامہ حسن ظفر نقوی
کربلا میں عاشور کے دن وہ لوگ جو نفس سے جہاد کرنے والے تھے، وہاں موجود تھے ان کی نیتوں میں کوئی دنیاوی لالچ، مال و دولت، مقام، عیش و آرام، زندگی یا کسی اور چیز کی طلب نہیں تھی، لہٰذا وہ کامیاب ہوگئے۔
مثال کے طور پر عمرو بن قرظہ انصاری جو کربلا میں امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے، جبکہ ان کا بھائی علی بن قرظہ، عمر سعد کی فوج میں تھا، کیونکہ عمرو بن قرظہ نے اپنی درونی خواہشات کو رام کرلیا تھا۔
لہذا وہ کبھی بھی بھائی کی محبت کی وجہ سے دشمن سے لڑنے میں کمزور نہیں پڑے۔
انہوں نے امام کا ساتھ دیا اور آخر وقت تک مضبوطی کے ساتھ امام حسینؑ کے ساتھ کھڑے رہے اور اسی راہ میں شہید کردیئے گئے۔
عاشور کا درس یہ ہے کہ صرف وہ لوگ دشمن کے مقابل کھڑے ہوسکتے ہیں، جو اپنے نفس پر قابو پالیں، جو قدرت، شہرت اور ریاست کی محبت نہ رکھتے ہوں۔