رجب بٹ پر تحریک لبیک کا توہین مذہب کا جھوٹا الزام: مذہبی انتہا پسندی کی نئی مثال
شیعیت نیوز: لاہور سے تعلق رکھنے والے یوٹیوب کے سب سے مشہور پہلے فیملی ویلوگر رجب بٹ، جو اپنے ہر وی لاگ کی شروعات درود پاک پڑھ کر کرتے تھے، پر ناموسِ رسالت کا الزام لگا کر اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار اس ملک میں ان کا جینا دوبھر کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے اور مال دار وی لاگر رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کا الزام لگا کر ایک بار پھر ہمارے ملک کا نام نہاد محب رسولؐ ٹولہ یعنی ناصبی تحریک لبیک پاکستان کے شرپسند ملاں اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رجب بٹ پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے "295” کے نام سے ایک پرفیوم کی مارکیٹنگ کا آغاز کیا ہے جس کا مطلب توہین رسالت بتایا جا رہا ہے۔ الزام عائد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ چونکہ کچھ عرصہ قبل رجب بٹ نے اپنے ایک وی لاگ میں نماز کی توہین کی تھی، جس کی بنیاد پر رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کی دفعہ 295C کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی گئی تھی جو اس کی معافی تلافی کے بعد واپس لے لی گئی تھی۔
تحریک لبیک نے الزام عائد کیا ہے کہ رجب بٹ نے اس سزا کی دفعہ کی توہین کی غرض سے اپنے پرفیوم برانڈ کا نام "295” رکھا ہے۔ واضح رہے کہ ہمارے ملک کے اکثریتی اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کو بھی 295C کا مطلب معلوم نہیں ہوگا۔
ادارہ شیعہ نیوز کسی بھی طرح رجب بٹ کی فین یا ہمدرد نہیں۔ ہم سمیت دیگر لوگوں کو اس کی فیملی وی لاگنگ سے اختلاف ہو سکتا ہے، اس کی شخصیت کے بعض پہلوؤں سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن جو چیز اس نے کی ہی نہیں، اس کے ساتھ اس کو منسوب کر کے اس کی زندگی کو نام نہاد مذہبی جنونیوں کے حوالے کرنا کہاں کا دین اور انصاف ہے؟
المیہ یہ ہے کہ جنہیں خود دین کا بنیادی شعور نہیں، وہی سب سے زیادہ مذہب کے ٹھیکیدار بنے پھرتے ہیں۔ انسانیت، اخلاقیات، رحم دلی اور علم سے بے بہرہ! ایک افواہ، ایک جھوٹا الزام اور پورا ہجوم دیوانہ وار ظلم پر اتر آتا ہے۔ نہ تحقیق، نہ دلیل، نہ انصاف… بس ایک سازش، جس کے پیچھے ہر کم عقل اندھا دھند دوڑتا ہے۔ کب تک یہ وحشی کھیل جاری رہے گا؟ کب تک بے گناہوں کو مارتا رہے گا؟
یہ بھی پڑھیں: شیعہ شناخت پر رجب بٹ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا فرخ کھوکھر کون؟
رجب بٹ کا قصور وہی ہے جو ہمارے ملک میں ظفر عباس کا ہے، جو فیصل رضا عابدی کا ہے – جی ہاں، یعنی ان کا شیعہ ہونا۔ یہ ناصبی ٹولہ ہر اس مشہور شخصیت کے خلاف جھوٹا اور من گھڑت پروپگنڈا شروع کر دیتا ہے جس کا تعلق شیعہ مکتب فکر سے ہو۔
رجب بٹ کا قصور بھی یہی ہے کہ وہ اپنے مسلک کا اظہار ببانگ دہل اپنی ویڈیوز میں کرتا ہے، مجالس و عزاداری میں شرکت کو نشر کرتا ہے، ماتم کا پرچار کرتا ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی رجب بٹ نے کراچی میں جے ڈی سی کی سحری کی تقریب میں شرکت کی تھی اور علی شیخانی سمیت ظفر عباس سے ملاقات کے بعد کراچی میں فری لیبارٹری سے متاثر ہو کر لاہور میں بھی مفت لیبارٹری بنانے کا اعلان کیا تھا۔
ورنہ ہمارے ملک میں کئی ایک ایسے فیملی وی لاگر موجود ہیں جو کہ انتہائی درجے کا گھٹیا اور بے ہودہ مواد یوٹیوب پر نشر کرتے ہیں۔ ڈکی بھائی، معاذ صفدر اور دیگر نے بھی کئی مرتبہ مذہبی شعار کی توہین آمیز ویڈیوز نشر کی ہیں، لیکن ان نام نہاد رسالت کے پروانوں اور چابی والے گڈوں کا ایمان کبھی نہیں جاگا۔
اسی ملک میں مفتی طارق مسعود، منظور مینگل، آصف اشرف جلالی جیسے ملعونوں نے کبھی شان رسالت، تو کبھی شان حیدر کرار اور کبھی شان سیدہ کائناتؑ میں بدترین گستاخیاں کیں، لیکن اس کے خلاف کبھی کالعدم سپاہ صحابہ یا تحریک لبیک نے مقدمہ درج نہیں کروایا۔
رجب بٹ جو ان دنوں عمرہ کی سعادت کے حصول کے لیے مکہ مکرمہ میں موجود ہیں، نے محمد و آل محمدؐ پر درود بھیج کر اور کلمہ پڑھ کر اپنے عمل پر ایک بار پھر معافی مانگی ہے اور نبی کریمؐ کی عزت اور ناموس پر اپنی، اپنے ماں باپ کی، اپنی اولاد کی جان قربان کرنے اور اپنے خون کا آخری قطرہ بھی نچھاور کرنے کی قسم کھائی ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب اور پاک فوج سے اپیل کی ہے کہ ان کو اور ان کے اہل خانہ کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
آخری اطلاعات موصول ہونے تک تصدیق ہوئی ہے کہ ناصبی تحریک لبیک کی شرپسند ملاؤں کی جانب سے لاہور کے ایک مقامی تھانے میں رجب بٹ کے خلاف توہین مذہب کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کروا دیا ہے۔







