ضلع کرم کے مسائل حل کرنے کی قرارداد، 40 سے زائد ممبران اسمبلی کی حمایت
شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے پارلیمانی لیڈر ایم این اے انجینئر حمید حسین نے قومی اسمبلی میں ضلع کرم میں مستقل قیام امن اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے قرارداد پیش کی، جس پر 40 سے زائد قومی اسمبلی کے ممبران نے دستخط کیے اور اس قرارداد کی بھرپور حمایت کی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ ضلع کرم کے حالات گزشتہ 3 سالوں سے بگڑتے جا رہے ہیں۔ عوام غیر محفوظ ہیں، وحشت ناک قتل عام ہو رہا ہے، املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، اور لڑائی و کشیدگی کی وجہ سے لاکھوں کی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
قرارداد کے اہم مطالبات:
- ضلع کرم کے ٹل پاراچنار روڈ کو چھپری تا تری منگل ہر قسم کے ٹریفک کے لیے محفوظ بنایا جائے اور کرم ملیشیا کے چیک پوسٹیں قائم کی جائیں۔
- ضلع کرم کا دیرینہ مسئلہ زمینی تنازعات ہے۔ زمینوں پر قابضین کے قبضے ختم کر کے کاغذات مال کے مطابق تنازعات حل کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم لشکر جھنگوی کا ڈی آئی خان میں امام بارگاہ پر حملہ
- جہاں دہشتگردی کے واقعات ہوں، وہاں سیکیورٹی فورسز فوری ناکہ بندی کر کے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کریں۔
- اسپیکر قومی اسمبلی ایک خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے جو ضلع کرم کے تمام دلخراش واقعات کی مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کرے۔ رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے اسپیکر حکومت کو ضروری ہدایات جاری کرے۔
- اسپیکر قومی اسمبلی ایک کمیٹی تشکیل دے جس میں تمام مسالک کے جید اور معتدل علماء شامل ہوں۔ یہ کمیٹی قبائل سے ملاقات کر کے شرعی حدود اور مسائل کا تعین کرے۔
- ضلع کرم کے عمائدین کے دسمبر 2024ء کے معاہدے اور مری معاہدے کو حکومت ایک مقررہ وقت میں نافذ العمل کرے۔
-
یہ مقدس ایوان حکومت پاکستان اور کمانڈر انچیف حافظ سید عاصم منیر سے مطالبہ کرتا ہے کہ بروقت اور سنجیدہ اقدامات کرتے ہوئے ان سنگین مسائل کا فوری حل کیا جائے۔







