آستین میں سانپ، ترکی کا منافقانہ چہرہ عالم اسلام کے سامنے بے نقاب ہو گیا

04 جنوری, 2025 18:01

شیعیت نیوز : بحیرہ احمر میں یمنی فوج نے اپنی کارروائیوں کے ذریعے تل ابیب کی بحری ناکہ بندی کی۔

تاہم اس دوران ترکیہ کے صدر اردوغان صیہونی حکومت کی مدد کرتے رہے۔

انقرہ نے عالم اسلام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اعلان کر رکھا ہے کہ ترکیہ نے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں اس حکومت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں۔

ترکیہ، غزہ کے نہتے فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی تل ابیب کی خود ساختہ غیر قانونی صیہونی حکومت کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔

غزہ میں پچھلے پندرہ مہینوں سے جاری صیہونی حکومت کی نسل کشی کے دوران ترکیہ سے تل ابیب کی طرف بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 3 مئی سے 7 دسمبر 2024 تک ترکیہ ، بحیرہ روم کے ذریعے مصر کی وساطت سے مطلوبہ سامان حیفا اور اشدود کی بندرگاہوں تک پہنچاتا رہا ہے۔

ترکیہ اور تل ابیب کے درمیان شپنگ کی تعداد 340 کارگوز سے تجاوز کر گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کالعدم دہشتگرد داعش کی وحشیانہ کاروائیاں نہ تھم سکیں، مزید 9 افراد کی لاشیں برآمد

دسمبر 2024 تک ترکیہ سے اسرائیلی بندرگاہوں پر بھیجے گئے بحری جہازوں کی تعداد 108 تھی۔

ترکیہ سے مقبوضہ علاقوں میں تیل اور پیٹرو کیمیکل لے جانے والے بحری جہازوں کی تعداد 48 کارگو تھی۔

جنہیں 25 جہازوں نے منتقل کیا تھا جب کہ ضروری سامان پر مشتمل کارگوز کی تعداد 19 ہے جنہیں 11 جہازوں کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

فلسطینیوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپنے والے پڑوسی ملک کے صدر نے شام کے خلاف بھی صیہونی امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں علاقائی مہرے کے طور پر کردار ادا کیا، جو اس ملک کی مسلمانوں سے غداری کا واضح ثبوت ہے۔

4:06 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top