میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا شیعیان حیدر کرارؑ کے خلاف بغض کم نہیں ہورہا
شیعیت نیوز: فاشسٹ اور کرپٹ پیپلز پارٹی کے جعلی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو شیعیان حیدر کرارؑ کی سیاسی و اجتماعی جدوجہد میں کامیابی میں کسی صورت ہضم ہونے اور بغض و عداوت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔
مرتضیٰ وہاب جو کہ اپوزیشن پارٹی کے یوسی ناظمین کو خرید کر جعلی طریقے سے شہر کراچی کے میئر کے منصب پر قابض ہوئے ہیں، مسلسل شیعہ قوم کے خلاف اپنے اندر کا زہر باہر نکالے جارہے ہیں۔
ایک بار پھر مرتضیٰ وہاب نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران الزام عائد کیا کہ شیعہ قوم کے دھرنوں کی وجہ سے ایمبولینسیں کراچی کی شاہراہوں پر پھنسی رہیں، شہر کی ترقی بند ہوگئی۔ وغیرہ وغیرہ۔
مرتضیٰ وہاب نے دوبارہ اپنے کینے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایم ڈبلیوایم نے ایک جگہ پر احتجاج کرنے کی ہماری بات نہیں مانی، جبکہ یہ ہماری مخالف سیاسی جماعت کے اتحادی ہیں، پھر بھی ہم نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
انہیں چاہئے تھا کہ کراچی کے بجائے خیبرپختونخواہ میں احتجاج کرتے۔ پاراچنار کا مسئلہ خیبرپختونخواہ کا مسئلہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : غزہ میں قید صیہونی قیدیوں کی رہائی کے لئے نیتن یاہو کے خلاف مظاہرہ
ایک صحافی نے سوال کیا کہ ملیر سٹی پر پولیس کی فائرنگ سے ایک اہل تشیع نوجوان شہید ہوا ہے، مختلف مقامات پر دھرنوں پر شیلنگ اور فائرنگ کی گئی ہے جس کے سبب اہل تشیع میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف شدید غم وغصہ ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے جواب میں کہا کہ ہم انہیں منا لیں گے، واضح رہے کہ مرتضیٰ وہاب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی خاطر مسلسل جھوٹ اور بہتان تراشی سے کام لے رہے ہیں۔
پورے شہر میں جاری کسی بھی دھرنے میں کسی ایمبولینس کا راستہ نہیں روکا گیا بلکہ تمام رکاوٹیں ہٹا کر ایمبولنس کو جگہ دی گئی، اس طرح کی بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ دوسری بات یہ کہ پورے شہر کو لوٹ کر کھا جانے والی پیپلز پارٹی جسے دھرنوں سے ٹریفک جام تو نظر آ رہا ہے، لیکن ریڈ لائن بس منصوبے اور پھٹی ہوئی پانی کی پائپ لائنوں سے ہونے والی شہر کی تباہی نظر نہیں آ رہی۔
شیعیان حیدر کرار نے سربراہ ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر خیبرپختونخواہ کے ضلع پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور پاراچنار میں بھی احتجاجی مظاہرے اور دھرنے کئے، صوبائی مشیر بیرسٹر سیف اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔
مرتضیٰ وہاب کو یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کی یادداشت اتنی کمزور نہیں کہ وہ 27 دسمبر 2007 کو بے نظیر بھٹو کے راولپنڈی میں قتل کے بعد کراچی سمیت پورے ملک کی تباہی اور بربادی کو بھول جائے۔







