پارہ چنار: مظلومین کے حق میں مظاہرے اور فوجی بیان پر سوالات

28 دسمبر, 2024 19:42

شیعیت نیوز: مظلومینِ پارہ چنار کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں مظاہرے اور دھرنے جاری ہیں، جہاں مظاہرین حکومت اور فوج سے سخت سوالات کر رہے ہیں۔

فوجی عہدیدار کا بیان

ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار کی جانب سے پارہ چنار کے تنازعے کو محض ایک "زمینی مسئلہ” قرار دینا عوام کے لیے ناقابلِ قبول ٹھہرا۔ مظاہرین کا کہنا ہے:

"یہ معاملہ صرف زمین کا نہیں، بلکہ ہماری جان و مال، عزت و امن کا ہے۔ ایسے بیان سے نہ صرف مسئلے کو نظرانداز کیا جا رہا ہے بلکہ مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکا جا رہا ہے۔”

مظاہرین کے سوالات

1. ریاستی کمزوری؟

"پاکستان کی فوج دنیا کی مضبوط ترین افواج میں شامل ہے، جو اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں آدھے گھنٹے میں دھرنے ختم کر سکتی ہے۔ تو پھر پارہ چنار میں چند تکفیری عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہو رہی؟”

2. محبت وطن ہونے کی سزا؟

"ہم نے ہمیشہ اپنی فوج کی عزت کی، اس کا ساتھ دیا، لیکن کیا ہمیں اپنی وفاداری اور محبت کی سزا دی جا رہی ہے؟ کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ جیسے عناصر، جو ریاست کے خلاف بغاوت کرتے ہیں، آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ مظلوم عوام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔”

3. فوجی بیان پر تحفظات

"جو فوجی عہدیدار اس مسئلے کو زمینی تنازعہ قرار دے کر خاموش ہو گئے، کیا وہ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ فوج اس معاملے میں کوئی مؤثر کردار ادا نہیں کرے گی؟ اگر یہ مسئلہ اتنا سادہ ہے تو اسے حل کیوں نہیں کیا جا رہا؟”

مطالبات

1. تکفیری عناصر کے خلاف فوری کارروائی

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان عناصر کو سختی سے کچلا جائے جو پارہ چنار میں تشدد اور فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔

2. پارہ چنار میں امن کی بحالی

دھرنا دینے والوں نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ مظلوم عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے اور مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔

3. مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں

ریاستی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ واضح طور پر پارہ چنار کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کے اعتماد کو بحال کریں۔

سوال

"کیا ریاست اور فوج ان شرپسند عناصر سے خوفزدہ ہے، یا انہیں نظرانداز کرنے کی کوئی اور وجہ ہے؟ مظلوم عوام کے لیے آواز بلند کرنا ہمارا حق ہے اور ہم انصاف کے بغیر خاموش نہیں ہوں گے۔”

یہ مظاہرے اور سوالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پارہ چنار کے عوام اور ان کے حامی ریاست سے عملی اقدامات اور حقیقی انصاف کے منتظر ہیں۔

12:58 شام مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔