جہاد کا نعرہ لگانے والے اسرائیل پر حملہ کیوں نہیں کرتے؟ ترجمان انصاراللہ
شیعیت نیوز : انصار اللہ یمن کے ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا: "شام کی نئی حکومت پچھلی حکومت سے مختلف ہے۔
یہ وہ مذہبی گروہ ہیں جو خدا کی راہ میں جہاد کا نعرہ لگاتے ہیں۔
یہ گروہ سب سے پہلے صیہونی دشمن کے خلاف کارروائی کرے اور اس صورت میں یمن ان کے شانہ بشانہ ہو گا۔
اسرائیل کے مجرم وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے خطرناک اور اہم بیانات دئیے ہیں۔
وہ شام میں حکومت کے خاتمے پر خوش تھا اور اسے ایران اور لبنان کی حزب اللہ کے خلاف ایک تاریخی کامیابی قرار دیے رہا تھا۔
یہ بیانات شام میں مسلح گروپوں کے بیانات کے عین مطابق ہیں۔
ان کا بنیادی ہدف ایران اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنا ہے۔
امت مسلمہ کے مسائل کے حوالے سے ان گروہوں کا کیا نقطہ نظر ہے؟
یہ بھی پڑھیں : امت مسلمہ کو اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے قریب آنا ہوگا، علامہ شبیر میثمی
یہ مسلح گروہ جنہوں نے شام پر قبضہ کر لیا ہے وہ اسلام پسند ہیں اور جہاد کے نعرے لگاتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ وہ ہر اس چیز کو آزاد کرنے کے لیے تیار ہیں جو ان کے سامنے اور ان کے قریب ہے۔
لیکن انہیں پہلے اسرائیلی دشمن کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے جو ان کے ملک پر بمباری کر رہا ہے۔
تاہم ان گروہوں نے اب تک صیہونی جارحیت کی مذمت تک نہیں کی۔
یمن کو تاریخ میں جارح طاقتوں کا قبرستان کہا گیا ہے اور آج یمنی قوم کی یکجہتی کسی بھی دوسرے مرحلے سے بڑھ کر ہے۔
جو بھی یمن کے خلاف جنگ شروع کرے گا وہ پچھتائے گا۔
یمن کے عوام گزشتہ 10 سالوں سے جارح طاقتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور کسی بھی صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔







