لاکھوں مجاہدین کو آیت اللہ سیستانی کے فتویٰ کا انتطار!حلب کے میدان دوبارہ تکفیریوں کے قبرستان بنیں گے
امریکہ اسرائیل اور مسلمان ملک ترکی ان تکفیریوں کو جدید اسلحہ فراہم کرکے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔

شیعیت نیوز:شام میں اٹھنے والا نیا فتنہ کہاں سے آیا اور کون ابو محمد جولانی کون ہے
تکفریوں کا ہدف کیا ہے؟اورعراق میں ایک لاکھ مجاہدین کو آیت اللہ سیستانی کے فتویٰ کاانتطار ہے۔
داعش اور حلب پر قابض تکفیری جتھوں دراصل صہیونیوں کا ہی دوسرا رخ ہیں۔
اہل سنت کو اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف جہاد کرنے پر اکسایا جاتا ہے جس کے بعد خطے میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوجاتے ہیں۔
داعش نے شیعہ سنی مسلمانوں کو تو شہید کیا ہے مگر آج تک ایک بھی پتھر اسرائیل کی طرف نہیں پھینکا۔
شام میں سرگرم عمل تکفیریوں کی ٹریننگ اسرائیل میں ہوتی ہے اور انکی زخمی فوجیوں کا علاج بھی اسرائیل کے ہسپتالوں میں ہوتا ہے۔
داعشی فوج میں شام ابو محمد جولانی نے اس بار فتنہ انگیزی سے پہلے اپنا حلیہ بدل لیا ہے عمامہ اور مولویوں جیسا لباس اتار کر ایک ماڈرن نوجوان کی طرح حلیہ اپنا ہے تاکہ نوجوان اس فتنے کے بہکاوے میں آجائیں۔
یہ داعش کا نیا رخ ہے سوچ وہی انتہا پسندا نہ اور تکفیریت پسند ہے۔تکفیری حلب کے بعد اب حما میں قابض ہورہے ہیں۔
اگر یہ قابض ہوگئے تو دمشق کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔دس سال قبل بھی تکفیریوں نے سیدہ زینب کے روضہ مبارک پر حملے کرنے کی کوششیں کی تھیں۔
اب کی بار بھی تکفیریوں کے عزائم بہت بُرے ہیں۔تازہ ترین خبروں کے مطابق تکفیریوں کے مقابلے میں تاحال شامی فوج ہی دفاع کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: ایران کی اقوام متحدہ میں شام کی حمایت: تکفیری دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عزم کا اظہار
تکفیریوں نے اعلان کیا ہے کہ ہم شیعوں اور صوفیوں کو کچھ نہیں کہیں گے ہمارا مقابلہ بشار الاسد کی فوج سے ہے۔
لیکن تاریخ گواہ ہے یہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ہمیشہ شیعہ سنی مسلمانوں کو ہی قتل کرتے ہیں خدشہ ہے کہ یہ دوبارہ سے گلے کاٹیں گے اور قتل عام کریں گے۔
سوال یہ ہے کہ ان تکفیریوں کے عزائم کیا ہیں؟
خطے میں اسرائیل کی شام وہ واحد ملک ہے جس نے اسرائیل کو قبول کرنے سے انکار کیا ہے اگر مسلح جتھے شام پر قابض ہوگئے تو اسرائیل کو قبول کرکے پورے خطے میں صہیونی رجیم کی طاقت کو منوانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
ان جتھوں کا ہدف ایران کو نقصان پہنچانا ہے۔
آپ نے ویڈیوز میں دیکھا ہوگا تکفیریوں نے حلب نے جدید ڈرون کو استعمال کیا سوال یہ ہے کہ جدید اسلحہ کس نے فراہم کیا؟
امیر المومین اروگان کی منافقت ایک بار پھر دنیا پر عیاں ہوچکی ہے۔
امریکہ اسرائیل اور مسلمان ملک ترکی ان تکفیریوں کو جدید اسلحہ فراہم کرکے مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہے۔
امت مسلمہ کو اس ظلم پر صدائے احتجاج بلند کرنا ہوگی۔
عالمی مبصرین کا کہنا ہے یہ جنگ جلد ختم ہونے والی نہیں ہے۔
تکفیریوں کا رخ عراق اور ایران بھی ہوسکتا ہے۔شام سے تکفیری ناسور کے خاتمے کیلیے عراق سے ایک لاکھ افراد تیار ہیں۔
اگر تکفیریوں نے عراق کی جانب پیش رفت کی تو پھر ممکن ہے حشد الشعبی بھی میدان جنگ میں اتر سکتی ہے۔
اگر آیت اللہ سیستانی کا فتویٰ آگیا تو حلب اور حما تکفیریوں کا قبرستان بن جائے گا