حلب میں پارہ چنار بدلے کے اعلانات! تکفیریت ،حلب تا پارہ چنار تک گھناونی سازش میں سرگرم ہوگئی
شیعیت نیوز:حلب ایک بار پھر لہو لہو ہوچکا ہے۔2016میں شامی صدر بشار الاسد نے اس شہر کو تکفیریوں سے پاک کردیا تھا لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ تکفیری جتھوں نے ایک بار پھر حلب کو گھیرلیا ہے۔
یہ وہ تکفیری عناصر ہیں جنہوں نے ہمیشہ اس شہر میں شیعہ اور سنی دونو ں کا خون بہایا ہے۔
حالیہ دنوں یہ بھی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ حلب شہر پہ مکمل قبضہ ہوگیا ہے تو یہ محض پروپیگنڈہ ہے حلب کے بیشتر حصے پر شامی فوج کا قبضہ ہے تکفیریوں کی اس گھناونے جرم کی تمام عرب ممالک نے مذمت کی ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ لبنان محاذپر جنگ بندی کے اگلے روز ہی یہ جتھے کیسے حلب میں گھس گئے؟
2011میں لاکھوں شیعہ سنی مسلمان قتل کئے گئے کیا تاریخ دوبارہ دہرائے جائے گی? کیا تکفیری پھر سے مسلمانوں کو قتل کریں گے.
افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ پاکستان میں بھی کچھ احمق اور مسلک پرست اس قبضہ پر شادیانے بجارہے ہیں۔
ایک حقیقت سب کو معلوم ہونی چاہیئے کہ داعش کا دوسرا رخ ہے یہ صرف شیعوں کے نہیں سنیوں کے بھی قاتل ہیں امت مسلمہ کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ ان تکفیری جتھوں کو اس وقت شرم نہیں آئی جب غزہ تباہ ہورہا تھا اور مسلمانوں کو شہید کیا جار ہا تھا بچوں کو بے دردی سے مارا جارہا تھا؟
یہ بھی پڑھئیے: شام میں تکفیری فتنہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگا حلب پر حملے کا اعلان
اب حلب میں ٹیکنوں پر بیٹھ کر اللہ اکبر کا نعرہ لگا کر شیعہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔
یہ سب اس وقت کہاں مرگئے تھے جب انکے بغل میں اسرائیل بچوں عورتوں کو مار رہا تھا۔کیا یہ ہمیشہ مسلمانوں کو ہی مار سکتے ہیں ؟قبلہ اول کے غاصبین کو آخر یہ کیوں نشانہ نہیں بناتے؟
ایک پتھر ایک گولی بھی اسرائیل پر نہیں چلائی آخر کیوں؟
یہ سوال ہر شیعہ سنی کا ہے کیا یہ اسرائیل کے دفاع کی جنگ ہے؟
ناظرین کرام آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا تھا کہ بچھو دوبارہ بھی آجائیں تو انہیں پھر جوتا مارا جائے گا۔شامی افواج اور مقاومتی تحریک اس قدر مضبوط ہیں کہ یہ تکفیری جتھے ایک بار پھر رسوا اور پسپا ہوجائیں گے۔
البتہ حالیہ فساد سے پاکستان میں بھی اثرات ہوں گے حلب سے پارہ چنار تک تکفیریوں کو ایک ہی ایجنڈا ہے کہ عالمی تشیع کو ختم کیا جائے۔
حلب سے ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں وہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم پارہ چنار کا بدلہ لیں گے
دراصل تکفیری جتھوں نے مسلمانوں کا دشمن اسرائیل کو نہیں بلکہ حلب سے پارہ چنار تک اپنا دشمن تشیع عالمی کو سمجھ لیا ہے فلسطین میں تو مسلمان آباد ہیں پھر انکی مدد کو کیوں نہیں گئے؟
ضرورت اس امر کی ہے کہ شیعہ سنی مسلمانوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور فرقہ واریت کے ناسورکو مضبوط نہ ہونے دیں وہ دن دور نہیں جب حلب سے پارہ چنار تک تکفیریوں کا خاتمہ ہوگا۔







