پارہ چنار کے حالات اور مسلکی اتحاد پر پیر عثمان نوری کا بیان

29 نومبر, 2024 20:24

شیعیت نیوز: پارہ چنار کے حالیہ واقعات پر پیر عثمان نوری نے ایک بیان دیا، جس میں انہوں نے حالات کی خرابی اور اس کے پس پردہ عوامل پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہنگامے ایک دن کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے حکومت اور متعلقہ ادارے کہاں تھے؟ اگر ہماری ایجنسیاں زمین دوز عناصر تک پہنچ سکتی ہیں تو انہیں یہ بھی علم ہوگا کہ پارہ چنار کے حالات کس نے خراب کیے۔

یہ بھی پڑھیں: ناصبی مفکر جاوید غامدی کی مولا علی کی شان میں گستاخی، گرفتاری کا مطالبہ

پیر عثمان نوری نے مزید کہا کہ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک پہلے ہی افراتفری کا شکار تھا، اور ایسے حالات میں مزید بحران پیدا کرنا تشویش ناک ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے کی تحقیق پہلے سے کی جانی چاہیے تھی تاکہ اس نقصان کو روکا جا سکتا۔

بیان میں پیر عثمان نوری نے معاشرتی اور مذہبی تقسیم پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے مسلک کے نام پر نفرت کا ماحول پیدا کیا جاتا تھا، لیکن آج حالات میں کچھ بہتری آئی ہے، اور لوگ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ تاہم، ایسے واقعات سے اس اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم کھانے کی میز پر ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو مسائل کے حل کے لیے بھی اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے خلاف بات کرنے والے افراد، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

پیر عثمان نوری نے تمام طبقات کو اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے اور عوام کو ملک کی بہتری کے لیے مل جل کر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ان کے بیان میں شریک دیگر رہنماؤں نے بھی اس اتحاد کو قائم رکھنے پر زور دیا اور پارہ چنار کے مظالم کے خلاف سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا۔

8:04 صبح مارچ 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔