پاکستانی سفارتی مشن کی طرف سے شیعہ کمیونٹی کے تحفظات نظر انداز کرنے پر شدید تنقید

29 نومبر, 2024 19:54

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین کے رہنما ناصر عباس شیرازی نے ایک بیان میں پاکستانی سفارتی مشنز کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارتی مشنز کا بنیادی کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے جذبات اور تحفظات کو پاکستان کی حکومت تک پہنچائیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو پاکستان کے لیے خطیر ریمیٹنس فراہم کرتے ہیں، وہ پاکستان کے سفیر اور ترجمان ہیں، ان کی آواز کو ریاست تک پہنچانا سفارتی عملے کی اہم ذمہ داری ہے۔

ناصر عباس شیرازی نے کہا کہ امریکہ جیسے ملک، جہاں جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کا دعویٰ کیا جاتا ہے، وہاں بھی پاکستانی سفارت خانے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ حال ہی میں، پارا چنار میں ہونے والے مظالم اور مبینہ نسل کشی کے خلاف احتجاجی قرارداد کو امریکہ میں موجود پاکستانی سفارت خانے نے وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ قرارداد، مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے، دنیا بھر میں پاکستانی سفارت خانوں تک پہنچانے کی اپیل پر پیش کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ناصبی مفکر جاوید غامدی کی مولا علی کی شان میں گستاخی، گرفتاری کا مطالبہ

انہوں نے مزید کہا کہ مولانا قیصر عباس، جو امریکہ میں ایک معزز شخصیت ہیں اور پاکستانی کمیونٹی کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں، نے ایک وفد کے ہمراہ لاس اینجلس میں پاکستانی سفارت خانے کو یہ قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، سفارت خانے نے اس قرارداد کو لینے سے صاف انکار کر دیا، جو ایک غیر سفارتی اور قابل مذمت رویہ ہے۔

ناصر عباس شیرازی نے اس رویے کو پاکستان کے لیے باعث شرمندگی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے سفارتی عملے کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، ان سے وضاحت طلب کی جائے اور انہیں واپس بلایا جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے پر وزارت خارجہ کو ایک باقاعدہ نوٹ آف کنسرن بھیجیں گے تاکہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکے اور آئندہ ایسے رویے کی روک تھام کی جا سکے۔

پارا چنار میں جاری کشیدگی اور مظالم کے خلاف عالمی سطح پر احتجاج کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ سفارتی چینلز کا مؤثر استعمال ہی پاکستانی حکومت تک ان کی آواز پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ ناصر عباس شیرازی نے زور دیا کہ سفارتی مشنز کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور کمیونٹی کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

6:16 صبح مارچ 25, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔