پارہ چنار شیعہ نسل کشی کے واقعہ میں 40مومنین شہید 30منٹ تک فائرنگ ہوتی رہی،عینی شاہدین

21 نومبر, 2024 12:50

شییعت نیوز: خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں مسافر گاڑیوں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے خواتین سمیت  چالیس افراد  شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مسافر گاڑیاں قافلے کی صورت میں لوئر کرم سے پاڑا چنار جارہی تھیں۔

پولیس کے مطابق ڈی پی او کرم اور ڈپٹی کمشنر سمیت پولیس کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے، تاہم واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاراچنار سے پشاور جانے والے قافلے میں شامل مسافر گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق کرم میں جاں بحق افراد کی تعداد40 ہوگئی، 13 جاں بحق افراد کی شناخت ہوگئی ہے۔

فائرنگ کا واقعہ علاقے اوچت میں میں پیش آیا، فائرنگ کا سلسلہ آدھے گھنٹے تک جاری رہا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد مسلح تھے، گاڑیوں پر خود کار ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پارہ چنار: لشکر جھنگوی کے حملے میں 20 شیعہ مومنین شہید، 32 زخمی

خیال رہے مسافر گاڑیاں سیکیورٹی فورسز کی حفاظت میں پاراچنار سے پشاور چلتی ہیں۔

اس سے قبل بھی 12 اکتوبر کو بھی قافلے پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، 12 اکتوبر کے بعد 22روز کے لیے مین روٹ بند رہا۔  22دن بعد کانوائے کے متبادل راستے کے ذریعے اجازت مل گئی تھی۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک خاتون سمیت جاں بحق افراد کی میتیں علی زئی پہنچادی گئی ہیں۔

مزید زخمی مندوری اسپتال لائے گئے ہیں۔ تاہم ریسکیو کا عمل جاری ہے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ہے۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع کُرّم میں مسافر گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نہتے مسافروں پر حملہ انتہائی بزدلانہ اور انسانیت سوز عمل ہے۔

صدر مملکت نے ہدایت کی معصوم شہریوں پر حملے کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

صدر مملکت کا واقعہ میں قیمتی جانی نقصان پر لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور جاں بحق افراد کے لیے بلندی درجات، اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

 انہوں نے ذمہ داران کے خِلاف کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ زخمی افراد کو بروقت طبی امداد کی فراہمی دی جائے۔

6:26 صبح مارچ 15, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔