اونٹ کی ٹانگ کٹنے پر واویلا! تکفیریوں کے پارہ چنار پر مظالم اور محاصرہ پر خاموشی، کیوں؟

01 نومبر, 2024 08:04

 شیعیت نیوز؛ تعلیمی ادارے سنسان پڑے ہیں۔ لاکھوں ایکڑ اراضی بنجر ہونے کو ہے۔ زمین پھٹتی نہیں اور آسمان گرتا نہیں۔ مسافر گاڑیوں پر حملے جاری ہیں۔

یہ کوئی ایک دو یا چند سالوں کی بات نہیں، اب مسئلہ ملکی سالمیّت کا ہے۔

محاصرہ ایسا ہے کہ متاثرہ منطقے میں جانے والی ایمبولینس تک محفوظ نہیں، امدادی راشن اور دوائیاں لے جانے والی گاڑیوں کو بھی لوٹ لیا جاتا ہے، رضاکاروں کو قتل کرنا تو معمول کی کارروائی ہے۔

میڈیا پرسنز کی اپنی اپنی مجبوریاں اور مصروفیات ہیں، ایمبولینس گاڑیوں میں سوار ڈاکٹروں کے قتل کرنے کو برائی نہیں سمجھا جاتا، سکولوں میں اساتذہ کے گلے کاٹنا تو جیسے کوئی نیکی کا کام ہو۔

یہ بھی پڑھئیے: پارہ چنار میں 15 سال سے لشکر جھنگوی کی شیعہ شناخت پر قتل و غارت:خصوصی رپورٹ

ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش کو ہی سارے مسائل کا حل سمجھ لیا گیا ہے۔ انسانیت تو خیر کب سے مرچکی، اب تو ملک کا صدر، وزیراعظم یا چیف آف آرمی اسٹاف بھی دلاسہ نہیں دیتا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں تو ایسے مقامات کا رُخ ہی نہیں کرتیں۔ یہ سب پڑھ کر یقیناً آپ کا ذہن فلسطین، غزہ اور یا پھر مقبوضہ کشمیر کی طرف چلا گیا ہوگا۔

اگر ایسا ہی ہے تو پھر آپ پاکستان کے غزہ کے بارے میں بالکل نہیں جانتے۔
یہ بھی پڑھئیے: پارہ چنار میں 15 سال سے لشکر جھنگوی کی شیعہ شناخت پر قتل و غارت:خصوصی رپورٹ

پاراچنار کے غیور اور باشعور عوام اگر اور کچھ نہیں کرسکتے تو کم از کم اپنی صفوں سے شرپسندوں اور تکفیری عناصر کو تو باہر کریں۔ ان کا ایسا کرنا خود قیامِ امن کیلئے ایک ناگزیر قدم ہے۔

بدامنی کی وجوہات گننے، جاننے اور پوچھنے میں تو کوئی مسئلہ نہیں، لیکن یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جس ملک میں کسی اونٹ کی ایک ٹانگ کٹنے پر واویلا مچ جاتا ہے۔

آج اُسی ملک کے ایک انتہائی حساس سرحدی علاقے میں طالبان اور تکفیری عناصر کی طرف سے ہزاروں نہتے لوگوں کا محاصرہ کرکے انہیں تڑپا تڑپا کر مارا جا رہا ہے۔

لیکن حکومت، میڈیا، سوشل میڈیا، سائنسدان اور انسانی حقوق کی تنظیمیں سب خاموش ہیں اور سب خاموش تماشائی ہیں۔

طالبان اور تکفیریوں کے مظالم پر خاموش پاکستانی تماشائیوں کو پاراچنار کا ہر باشندہ اپنی زبانِ حال سے یہ پیغام دے رہا ہے کہ
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

11:33 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top