سانحہ کشمیریاں مسجد لاہور کو20سال بیت گئے!قاتل آج بھی آزاد
شیعیت نیوز:سانحہ سیالکوٹ کے ٹھیک دس دن بعد صوبہ پنجاب ہی کے پُر رونق شہر لاہور میں موچی دروازہ کے قریب واقع مسجد کشمیریاں میں دشمنانِ اسلام نے ملتِ جعفریہ کے خلاف ایک اور حملہ کیا۔
مومنین نمازِ مغرب کے لیے اپنی صفوں کو منظم کر رہے تھے۔
حالات کے پیشِ نظر مسجد کی انتظامیہ نے اپنے وسائل کے تحت سیکورٹی کے انتظامات کیے ہوئے تھے۔
مسجد کے مرکزی دروازے پر دوگارڈ تعینات تھے۔
دورانِ نماز ایک پیروکارِ ابنِ زیاد رے کی جنت کےحصول کی خاطر اپنے جسم پر بم باندھ کر مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن حفاظت پر مامور مسجد کے دو سیکورٹی محافظوں نے اپنی جان نچھاور کردی
علامہ آغا سید علی الموسوی کی برسی کے اجتماع سے اہم قومی شخصیات کاخطابیہ بھی پڑھیں:
اور حملہ آور کو مسجد کے اندر جانے سے روک لیا۔
دروازے کے قریب ہی وضو خانے میں ایک کمسن نمازی بھی دھماکے کی زد میں آکر شہید ہوگیا۔
مغربین کی نماز کے وقت ایک نامعلوم شخص نے ایک بریف کیس سمیت حسینہ ہال میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
امام بارگاہ پر تعینات محافظوں نے اس کو روکا تو اس نے فائرنگ شروع کردی اور اس بربف کیس کو کھول دیا جس سے ایک زور دار دھماکہ ہوا اور حملہ آور دو محافظوں اور ایک بچے سمیت شہید ہو گیا۔
عینی شاہدوں کے مطابق مسجد میں ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔ دو زخمیوں نے بتایا وہ وضو کر رہ تھے اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی زبردست دھماکہ ہوا۔







