شام کیساتھ ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو ناقابل حل ہو، انقرہ
شیعیت نیوز: ترکیہ کے جنرل گولر نے انقرہ اور دمشق کے درمیان تعلقات کے بارے میں وضاحت کی ۔
کہ ہمارے درمیان ایسا کوئی مسئلہ نہیں جو حل نہ ہو سکے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ان مسائل کو حل کرنے کے بعد ہم دو پڑوسی ممالک کے طور پر اپنے معمول کی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب شام کے صدر "بشار الاسد” نے اپنی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔
کہ روس، اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق نے ترکیہ اور شام کے درمیان مفاہمت کے لیے مخلصانہ کوششیں کی ہیں۔
لیکن اس سلسلے میں ابھی تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔
یہ بھی پڑھیں: فرقہ پرستی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے، جسے روکنے کی ضرورت ہے، زاہد علی آخونزادہ
اُدھر انقرہ میں ایک سفارتی سورس نے روسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ یہ بھی ممکن ہے ۔
کہ ترکیہ اور شام کے سربراہان کسی تیسرے ملک میں ایک دوسرے سے ملاقات اور بات چیت کریں۔
تاہم فی الوقت اس ممکنہ ملاقات کے زمان اور مکان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
قبل ازیں روس کے نائب وزیر خارجہ "میخائل بوگدانوف” نے کہا کہ ترکیہ اور شام کے صدور کے درمیان ہونے والی ملاقات کی میزبانی کے لیے ماسکو تیار ہے۔







