حزب اللہ نے صہیونی حکومت کے ساتھ جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے

شیعیت نیوز: حزب اللہ کی مرکزی نگران کونسل کے رکن شیخ جابر علی نے کہا ہے کہ مقاومت اسلامی نے دشمن کے ساتھ جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔
1982 میں صہیونیوں کے غاصبانہ قبضے کے بعد سے اسلامی مقاومت روز بروز طاقتور ہوتی گئی جس کے نتیجے میں میدان جنگ میں صہیونیوں پر غلبہ پیدا کیا۔
انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے ایمان، عقیدہ اور ظلم کے ساتھ مقابلے کے جذبے کے ساتھ اپنے تجربات میں خاطر خواہ اضافہ کیا اسی وجہ سے شمالی سرحدوں پر دشمن کو شکست کا سامنا ہے۔
دشمن نے مجبور ہوکر دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا بزدلانہ طریقہ اختیار کیا ہے تاہم ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ کمانڈروں کی شہادت سے مقاومت کا راستہ نہیں رکے گا۔
لبنانی مقاومت نے اپنے تجربات کو وسعت دیتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی کی ہے۔
دشمن نے بھی اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کی خصوصیت تربیت دینا اور یاد کرنا ہے۔
اپنی صلاحیت کے بل بوتے پر مقاومت نے دشمن کے خلاف کامیاب کاروائیاں کی ہیں جس کی وجہ سے صہیونی کمزور اور متعدد مواقع پر شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین کی استقامتی تحریکوں کی تل ابیب پر یمن کے ڈرون حملے کی قدردانی
اس کی اولین اور بنیادی وجہ دشمن کے ساتھ میدان جنگ میں مصروف عمل مجاہدین کا حوصلہ ہے۔
مقاومتی جوان ایمان کے جذبے سرشار ہیں جس سے صہیونی فوجی محروم ہیں۔
دشمن کے سپاہیوں کے اندر قربانی دینے کا کوئی جذبہ نہیں ہے۔
اسی وجہ سے 1982 کے بعد دشمن کے سپاہیوں کا حوصلہ روز بروز کمزور ہورہا ہے۔
آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ میدان جنگ کا نقشہ حزب اللہ کھینچتی ہے۔
گذشتہ نو مہینوں کے دوران شمالی اور جنوبی سرحدوں پر صہیونی فوج کو ہزیمت آمیز شکست ہوگئی ہے۔